Al-Risala · November 1992 · page 34

سفر نامه - ۴۰

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۲، صفحہ ۳۴

جامع عمرو بن العاص ۲۱ ھ - ۶۴۲ م : اول المساجد التي أنشأت فى مصر و افريقيا و اول جامعة علمية فى مصر اسسها عمرو ابن العاص - ظہر کی نماز ہم نے اسی مسجد میں پڑھی۔ مسجد نے اندرونی حصہ میں وضو خانہ نہیں تھا۔ معلوم ہوا کہ وضو خانہ باہر بنا ہوا ہے۔ ہم عقبی دروازہ سے باہر نکلے۔ مسجد سے متصل ایک لمبی اور وسیع پٹی کے دوسری طرف وضو خانہ کی عمارت تھی۔ مسجد اور وضو خانہ کے درمیان خالی زمین، جو یقینا مسجد ہی کی زمین تھی، وہ کوڑا خانہ کا منظر پیش کر رہی تھی۔

اس کے بعد ہم المتحف المصری (مصری میوزیم) پہنچے۔ اس کے گیٹ پر پہنچے تو میرے مصری ساتھی نے کہا: لما دخل هذا المتحف من قبل - اول مرة ادخل - عام طور پر میں نے دیکھا ہے کہ اس طرح کی چیزوں سے مقامی لوگوں کو کوئی خاص دلچسپی نہیں ہوتی۔ باہر کے لوگ افسانوی شوق لے کر اس کو دیکھنے کے لئے آتے ہیں۔ مگر مقامی لوگ کم ہی اس کو دیکھنے کی ضرورت محسوس کرتے ہیں۔ اسی متحف میں اس فرعون کی مومیائی کی ہوئی لاش ہے جو موسیٰ علیہ السلام کا ہم زمانہ تھا۔ اس کو تاریخ میں ریمس ثانی (Ramses II) کہا جاتا ہے۔

قاہرہ کا جامعۃ الازہر (الازہر یونیورسٹی)، جامعۃ القرویین کے بعد قدیم ترین مسلم درس گاہ ہے۔ اس کو دولت فاطمیہ نے ۹۷۰ء میں قائم کیا تھا۔ اس میں طلبہ کی تعداد ۳۰ ہزار سے زیادہ ہے۔ اسلام کے دور اول میں علم کا جو طاقتور رجحان پیدا کیا اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بعد کی تمام صدیوں میں تعلیمی کالج اور مدرسے پوری مسلم دنیا میں اسپین سے لے کر وسط ایشیا اور ہندستان تک قائم ہو گئے۔ اسپین وہ مقام تھا جہاں سے فلسفہ اور سائنس منتقل ہو کر یورپ پہنچے :

Throughout subsequent centuries, colleges and madrasahs arose throughout the Muslim world from Spain (whence philosophy and science were transmitted to the Latin West) across Central Asia to India. (9/922) علمی ترقی اور تعلیمی توسیع کا یہ سارا کام خلافت راشدہ کے بعد اس وقت ہوا جب کہ مسلم حکمرانوں میں بگاڑ آگیا تھا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات کے مطابق، مسلم علماء اور دانشوروں نے یہ علم انسان حکمت اختیار کی کہ انھوں نے ”اصلاح سیاست“ کے نام سے حکمرانوں سے ٹکراؤ نہیں کیا۔ انھوں

‹ Previous page Next page › Contents of November 1992 All issues

Printed page