سفر نامه - ۴۰
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۲، صفحہ ۳۵
نے حکمرانوں سے تعرض نہ کرتے ہوئے اپنے آپ کو ہمہ تن دینی اور سائنسی علوم کی ترقی میں لگا دیا۔ اس حکمت کی بنا پر انہیں حکمرانوں کا ہر دست تعاون حاصل ہوا۔ حتیٰ کہ اسلام کی عظیم الشان علمی تاریخ وجود میں آگئی۔ اس کے برعکس مسلم علماء اور مسلم دانشور اگر مسلم حکمرانوں سے لڑنا شروع کر دیتے تو وہ "شہداء" کی تعداد میں تو ضرور اضافہ کرتے مگر وہ اسلام کے لئے کوئی تاریخ ساز کارنامہ انجام نہیں دے سکتے تھے۔ ایک صاحب نے مجھے ایک کتاب دی۔ یہ جامعۃ الازہر کی طرف سے چھپی ہے۔ اور اس کو وسیع پیمانہ پر تقسیم کیا گیا ہے۔ اس کتاب کا نام ہے: واجبات الامة نحو كاشف الغمة صلى الله عليه وسلم یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے امت کی ذمہ داریاں۔ میں نے اس کتاب کو دیکھا۔ اس کتاب کے مضامین کا اندازہ اس کی فہرست سے بخوبی طور پر ہوتا ہے۔ یہ فہرست حسب ذیل ہے:
الواجب الاول الایمان بنبوته والتصدیق برسـالته صلى الله عليه وسلم الواجب الثاني طاعته فيما أمربه واجتناب ما نهى عنه صلى الله عليه وسلم الواجب الثالث احياء سنته الشريفة وامـاتـة البــدعــة الواجب الرابع محبتہ وشوق لقائہ صلى الله عليه وسلم الواجب الخامس تعظیم شانہ و توقيرہ صـلـى اللـه عـلـيـه وسـلـم الواجب السادس الصلاة والسلام على رسول الله صلى الله عليه وسلم الواجب السابع زيارة مسجدہ الشريف صلى الله عليه وسلم ہم 9 صفحہ کی اس کتاب میں بظاہر امت محمدی کے تمام واجبات بیان کر دیے گئے ہیں۔ مگر اس میں وہی چیز حذف ہے جو امت کے تمام واجبات میں سب سے زیادہ اہم ہے۔ یعنی شہادت حق اور دعوت الی اللہ۔ سنت کے باب میں مونچھ کاٹنے اور داڑھی بڑھانے تک کی سنت کا ذکر ہے۔ مگر اس میں سنت دعوت کا کوئی ذکر نہیں۔
بعد کے دور میں لکھی جانے والی تمام کتابوں کا یہی حال ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دعوت و تبلیغ کا تصور ہی امت کے زندہ شعور سے حذف ہو گیا ہے۔ حتی کہ جو لوگ بظاہر دعوت و تبلیغ کا نام لیتے ہیں وہ بھی دوسرے دوسرے کاموں کو دعوت و تبلیغ کا عنوان دئے ہوئے ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1992 All issues