38 الصّالح - نومبر ۱۹۹۲ء
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۲، صفحہ ۳۸
ہونے یا بیٹھنے میں زحمت ہوتی ہے۔ وہ اس اسٹول پر بیٹھ کر نماز پڑھ سکتے ہیں۔ ۱۳ اکتوبر کو قاہرہ کے ایک مکان میں عرب نوجوانوں کی مجلس تهي۔ میں نے کہا کہ میں ایک جملہ کہتا ہوں آپ میں سے کوئی صاحب اس کی تشریح کریں۔ پھر میں نے کہا : البقرۃ ھی صناعۃ الٰھية التی تحول اللا حلیب الی حلیب ۔ وکذالك المومن فھو صناعۃ الٰھیۃ الذی یحول اللّا ایمان الی ایمان ۔
جن نوجوانوں نے میرے مضامین ابھی زیادہ نہیں پڑھے تھے وہ اس سوال کو اچھی طرح سمجھ نہ سکے۔ مگر جن نوجوانوں نے میرے مضامین پڑھے ہیں وہ سوال کا مطلب سمجھ گئے اور اس کی کچھ تفسیر بھی بیان کی۔ آخر میں میں نے تفصیلی طور پر اس کی وضاحت کی۔
۱۳ اکتوبر کو ہم نے ظہر کی نماز مسجد بلال بن رباح میں پڑھی۔ یہ کافی چھوٹی مسجد تھی۔ مگر ہم تین آدمیوں کے اضافہ کے باوجود ایک صف بھی پوری نہیں ہوئی۔
راستہ میں ایک چرچ تھا۔ آواز سے معلوم ہوتا تھا کہ مسیحی لوگ اس کے اندر اپنی عبادت کر رہے ہیں۔ ہم نے چاہا کہ اس کو اندر سے دیکھیں لیکن گیٹ کے باہر تین مسیحی چوکی دانی بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ پولیس کی وردی میں تھے۔ انھوں نے ہم کو داخلہ سے روک دیا۔ میں نے بار بار کہا کہ ہمارا مقصد صرف دیکھنا ہے۔ مگر ان لوگوں نے کسی بھی قیمت پر اندر داخل ہونے نہیں دیا۔ میں نے کہا کہ میں کئی ملکوں کے چرچوں کے اندر بلا روک ٹوک داخل ہوا ہوں، حتی کہ عین عبادت کے وقت چرچ کے اندر گیا ہوں۔ تاہم انھوں نے مجھ کو اندر جانے نہیں دیا۔ اس کی وجہ شاید یہ ہو کہ ان ملکوں میں سب سے اہم مسئلہ سیکیورٹی کا ہوتا ہے۔ ان ملکوں کا سماج سیکیورٹی اور ڈیفینڈ سماج ہوتا ہے ۔ اس بنا پر وہ ہر آدمی کو شبہ کی نظر سے دیکھتے ہیں۔
آتے جاتے ہوئے یہاں کے دو پارک دیکھے۔ یہ دونوں پارک جدید مصر کے تھے۔ مگر دونوں کی حالت معمولی نظر آئی۔ سیاحت کے اعتبار سے اہمیت کے مقامات پر میں نے یہاں صفائی اور دیکھ ریکھ کا اہتمام پایا۔ مگر دوسرے مقامات یا پارک ایسے نظر آئے جیسے انھیں کوئی اہمیت نہ دی جارہی ہو۔
38 الصّالح - نومبر ۱۹۹۲ء
‹ Previous page Next page › Contents of November 1992 All issues