سفر نامه - ۴۰
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۲، صفحہ ۳۷
پڑھی۔ یہاں کی مسجدوں کا ایک خاص انداز ہوتا ہے جو دوسرے ملکوں کی مسجدوں سے مختلف ہے۔ تا ہم مسجد اور اطراف مسجد میں صفائی کا معیار زیادہ اچھا نظر نہیں آیا۔ ایک عرب نوجوان سے ملاقات ہوئی۔ وہ ڈیڑھ ہزار کلومیٹر کا سفر طے کرکے صرف مجھ سے ملاقات کے لئے قاہرہ آئے تھے۔ ملاقات ہوئی تو دیر تک لپٹ کر روتے رہے۔ وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔ ان کے اندر حقیقت کی تلاش کی کیفیت ابھری۔ حتیٰ کہ وہ سوچنے لگے کہ میں خود کشی کر لوں۔ پھر انہوں نے ہمارے یہاں کی عربی اور انگریزی مطبوعات پڑھیں ۔ اس کے بعد انھوں نے از سر نو اسلام کی حقیقت کو دریافت کیا۔ انھوں نے کہا: عند ما ادرکت هذہ الرسالة عرفت أن هذا هو الامر الحقیقی الذی کنت ابحث عنہ)
یہاں اس طرح کے اور کئی عرب نوجوانوں سے ملاقات ہوئی۔ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ الرسالہ مشن کی قبولیت کا مزاج سب سے زیادہ عربوں میں پایا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عرب کا دین بعد کے افسانوں سے بڑی حد تک پاک ہے۔
مولانا عبد الباری ندوی (۱۹۶۱ء - ۱۸۹۰) قاہرہ کو مقہورہ کہا کرتے تھے۔ یعنی اس کی حیثیت قاہر اور غالب کی نہیں بلکہ وہ مغربی تہذیب سے مغلوب اور مقہور ہو چکا ہے۔ میں اس سے اتفاق کرتے ہوئے اس میں یہ اضافہ کروں گا کہ یہی حال دوسرے تمام مسلم شہروں کا بھی ہے۔ حتیٰ کہ موجودہ زمانہ کے مسلم ادارے بھی اس کیفیت سے مستثنیٰ نہیں۔ ظاہری صورت میں ضرور فرق ہے مگر اندرونی حقیقت کے اعتبار سے ایک اور دوسرے میں کوئی بنیادی فرق نہیں۔
ایک مصری طالب علم عبد الحمید سعد عویس نے ایک مصری مثل ان لفظوں میں بتائی : :کل ما يُعجبك والبس ما يعجب الناس (کھانا اپنی پسند کا کھاؤ اور کپڑا دوسروں کی پسند کا پہنو)، اس مثل سے مصری مسلمانوں کا مزاج معلوم ہوتا ہے۔ مصری مسلمان عام طور پر خوش باش ذہن کے ہوتے ہیں۔ ان کی اس صفت کا یہ فائدہ ہے کہ وہ عام طور پر تندرست رہتے ہیں۔ مگر دوسرا نقصان یہ ہے کہ وہ معاملات پر زیادہ گہرائی کے ساتھ غور نہیں کر پاتے۔
۱۳ اکتوبر کو عشاء کی نماز میں نے یہاں کی مسجد الفرقان تعمیر ۱۳۹۰ھ) میں پڑھی۔ یہ مسجد کافی صاف ستھری اور نمازیوں سے بھری ہوئی تھی۔ مسجد کے اندر ایک نئی چیز یہ نظر آئی کہ اس میں پلاسٹک 37 [رسالی نومبر ۱۹۹۲ء
‹ Previous page Next page › Contents of November 1992 All issues