38 الصّالح - نومبر ۱۹۹۲ء
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۲، صفحہ ۴۱
ہیں ۔ مثلاً صفر (cipher) اور لیمون (lemon) وغیرہ ۔ مضمون نگار نے اس سلسلہ میں تفصیلات بیان کرتے ہوئے لکھا تھا کہ قرون وسطیٰ میں ۵۰۰ سال تک عربی علم اور عربی کلچر اور فکری ترقی کی زبان بنی رہی :
for 500 years Arabic was the language of learning, culture and intellectual progress. یہ الفاظ پڑھ کر میں سوچنے لگا کہ جب ماضی ایسا تھا تو موجودہ زمانہ کے مسلمان اس سے مختلف کیوں ہو گئے۔ اس کی وجہ یہ سمجھ میں آئی کہ موجودہ مسلمان قدیم مسلمانوں کا تسلسل نہیں ہیں، وہ قدیم مسلمانوں کی اگلی نسلیں ہیں۔ قدیم مسلمانوں کے اندر مذکورہ انقلابی صفت اس لئے آئی تھی کہ ان کا ایمان ان کے لئے ذہنی انقلاب کے ہم معنی تھا۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کو اگر اٹھانا ہے تو ان کے ایمان کو دوبارہ ذہنی انقلاب بنانا پڑے گا۔ اس ابتدائی عمل کے بغیر محض جذباتی الفاظ بولنے سے موجودہ مسلمانوں میں ماضی والے مسلمانوں کی صفت آنے والی نہیں۔
درمیان میں ہمارا جہاز تقریباً ایک گھنٹہ کے لئے دوحہ میں رکا۔ یہ قطر کی راجدھانی ہے۔ ۱۹۷۰ تک اس کی حیثیت ایک معمولی بستی کی تھی۔ ۱۹ ویں صدی کے آخر میں عثمانیوں نے یہاں اپنا قبضہ قائم کیا۔ ۱۹۱۶ سے ۱۹۷۱ تک وہ برطانیہ کے دائرہ اثر میں رہا۔
۲۰ ویں صدی کے آغاز میں دوحہ کے ساحل پر ۳۵۰ سمندر سے موتی نکالنے والی کشتیاں (pearling boats) تھیں ۔ اس وقت تک موتی نکالنا یہاں کا خاص کاروبار تھا۔ مگر اس کے بعد جاپان کے مصنوعی موتی (cultured pearls) بازار میں آ گئے ۔ بظاہر اصلی موتی ہونے کے باوجود وہ بہت سستے تھے۔ چنانچہ اس کے بعد دوحہ کی موتیوں کی تجارت ختم ہوگئی۔ مگر دوسری عالمی جنگ کے بعد یہاں پٹرول نکالنے کے کارخانے قائم ہو گئے۔ اور اب قطر ایک انتہائی دولت مند ملک سمجھا جاتا ہے۔ اب یہاں قدیم مٹی کے گھروں کے بجائے جدید طرز کے عالیشان مکانات کھڑے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی دنیا میں ترقی کے بے پناہ امکانات رکھے ہیں۔ یہاں ایک امکان کے ختم ہوتے ہی دوسرا اس سے بڑا امکان سامنے آجاتا ہے ۔ فطرت کا یہ قانون زمین کے مادی خزانوں کے لئے بھی ہے اور انسانی زندگی کے لئے بھی۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1992 All issues