38 الصّالح - نومبر ۱۹۹۲ء
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۲، صفحہ ۴۲
عرب امارات (United Arab Emirates) کی فیڈریشن ۱۹۷۱ میں بنی۔ اس میں سات چھوٹی ریاستیں شامل ہیں۔ ان کی مجموعی آبادی دو ملین سے بھی کم ہے۔ ابوظبی اس فیڈریشن کا صدر مقام ہے۔ شیخ زائد کی رہنمائی میں فیڈریشن نے "ایجوکیشن اینڈجٹ" بنایا ہے۔ وہ اپنی آمدنی کا ۷ فیصده تعلیم پر خرچ کر رہے ہیں۔
یہ بلاشبہ ایک دانشمندانہ طریقہ ہے۔ موجودہ دور معلومات کا دور (information age) ہے۔ معلومات تک رسائی صرف اہل علم کو ہو سکتی ہے۔ اس لئے قوم کو حصولِ علم میں آگے بڑھانا دور جدید میں ترقی کے لئے انتہائی ضروری ہے۔
تعلیم کی طرف خصوصی توجہ دینے کا یہ نتیجہ ہے کہ عرب امارات اور ابوظبی میں اعلیٰ تعلیم یافتہ عرب نوجوانوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ دہلی کے انگریزی اخبار ہندوستان ٹائمس (۹ دسمبر ۱۹۹۱) میں عرب امارات کے حالات پر ایک جائزہ چھپا ہے۔ جائزہ نگار نے ابوظبی کے ایک بڑے تاجر سلطان بن سلیمان (۳۶ سال) سے ملاقات کی۔ اس نے لکھا ہے کہ سلطان بن سلیمان انگریزی بھی اتنی ہی اچھی بولتے ہیں جتنا کہ عربی:
He is as articulate in English as he is in Arabic. عرب امارات کے اکثر شعبوں میں ابھی تک برٹش لوگ کثرت سے موجود ہیں۔ میں نے ایک شیخ سے پوچھا کہ برٹش افراد اس طرح کب تک یہاں رہیں گے۔ انھوں نے جواب دیا کہ اس معاملہ میں ہم نے تدریج کا طریقہ اختیار کیا ہے۔ ہم اپنے نوجوانوں کو بڑے پیمانہ پر جدید تعلیم دلا رہے ہیں۔ امید ہے کہ اس صدی کے آخر تک ہمارے نوجوان تربیت پا کر ان شعبوں کو سنبھال لیں گے۔ جن کو آج زیادہ تر انگریز سنبھالے ہوئے ہیں۔ اس طرح کے معاملہ میں یہی طریقہ درست ہے۔ جو لوگ انقلابی جوش میں دفعہ تمام بیرونی افراد کو خارج کر دیتے ہیں وہ ہمیشہ اس قیمت پر ہوتا ہے کہ کارکردگی کا معیار تباہ ہو کر رہ جائے ۔
ایک مسافر نے مجھے بتایا کہ ایک بار وہ ابوظبی ایئر پورٹ پر تھا۔ ایک عرب لڑکی آ کر پاس کی کرسی پر بیٹھ گئی۔ مسافر نے اس سے عربی میں ایک سوال کیا۔ لڑکی نے روانی کے ساتھ انگریزی میں جواب دیا۔ مسافر نے کہا کہ تم انگریزی جانتی ہو۔ اس نے فوراً جواب دیا کہ بے شک (of course)
‹ Previous page Next page › Contents of November 1992 All issues