Al-Risala · November 1992 · page 43

38 الصّالح - نومبر ۱۹۹۲ء

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۲، صفحہ ۴۳

گلف ایئر کی سروس اچھی تھی۔ تاہم دوحہ اور ابوظبی دونوں جگہ اس کی لینڈنگ ایسی تھی جس کو رِف لینڈنگ ہی کہا جائے گا۔ سفر کے دوران ہموار پرواز کا انحصار موسم پر ہوتا ہے۔ اور لینڈنگ کے وقت ہموار لینڈنگ کا انحصار پائلٹ پر۔

دوحہ (قطر) سے نکلنے والے عربی اخبار العرب کا شمارہ ۱۴ اکتوبر ۱۹۹۱ دیکھا۔ اس کی ایک خبر کا عنوان تھا: ۲۷۰۰ لغۃ فی العالم (دنیا ہیں ۲۷۰۰ زبانیں ہیں) اس میں ترکی کے ذرائع سے بتایا گیا تھا کہ ساری دنیا میں مروجہ زبانوں کی مجموعی تعداد ۲۷۰۰ تک پہنچتی ہے۔ ان میں سب سے زیادہ استعمال کی جانے والی زبانیں یہ ہیں ـــــــــ چینی، انگریزی، اسپینی، ہندی، ترکی۔ اس خبر کو پڑھ کر میرے ذہن میں ایک خیال آیا اور پھر اس کی مناسبت سے نظیرؔ اکبر آبادی کا یہ شعر یاد آگیا :

ہم تو نہ چاند سمجھیں نہ سورج میں جانتے بابا ہمیں تو یہ نظر آتی ہیں روٹیاں خبر کو پڑھ کر میرے ذہن میں کیا خیال آیا تھا، اس کو میں ناظرین کے اوپر چھوڑتا ہوں۔ جو لوگ میری تحریریں برابر پڑھتے رہے ہیں ان کے لئے اس کو قیاس کرنا مشکل نہیں۔ دوحہ کا دوسرا عربی اخبار الشرق (۱۴ اکتوبر ) بھی دیکھا۔ اس کے صفحہ اول کی ایک خبر یہ تھی کہ شاہ حسین آرام کرنے کی خاطر اردن کے تخت کو چھوڑنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں (حسین يفكر في التخلي عن عرش الاردن)

خبر میں بتایا گیا تھا کہ اردن اس وقت سخت ترین اقتصادی اور اجتماعی مشکلات سے دوچار ہے۔ ان ذمہ داریوں کو سنبھالنا شاہ حسین کے لئے سخت دشوار ہورہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ملک کی حکومت پر باقی رہنے کے سوال نے ان کو ناقابل برداشت مصیبت میں ڈال دیا (ان مسئلة الاستقرار في الحكم تدار هفته)

شاعر نے کہا ہے کہ : جن کے رتبے ہیں سوا ان کو سوا مشکل ہے۔ جو شخص جتنے بڑے مرتبہ پر ہو اتنا ہی زیادہ وہ مشکلات میں مبتلا ہوتا ہے۔ یہ اصول شاہ اردن کے لئے جتنا درست ہے اتنا ہی وہ شاہ امریکہ کے لئے بھی درست ہے۔ اس میں کسی کا کوئی استثناء نہیں۔ جہاز میں ایک نئی بات یہ تھی کہ عربی اور انگریزی کے ساتھ ہندی زبان میں بھی اعلانات کئے۔ 43 آرصالی ۔ نومبر ۱۹۹۲

‹ Previous page Next page › Contents of November 1992 All issues

Printed page