Al-Risala · November 1992 · page 45

38 الصّالح - نومبر ۱۹۹۲ء

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۲، صفحہ ۴۵

اس کو پڑھتے ہوئے دل تڑپ اٹھا۔ میں نے کہا کہ امریکہ کے گرین کارڈ کو حاصل کرنے کے لئے لوگ ٹوٹے پڑ رہے ہیں۔ مگر جنت کے گرین کارڈ کی کھڑکی خالی پڑی ہوئی ہے۔ وہاں کوئی لائن میں کھڑا ہونے والا نہیں۔

اس کے بعد ہمارا جہاز کچھ دیر کے لئے ابوظبی میں اترا۔ تمام مسافر ہوائی جہاز سے نکل کر ایئرپورٹ پر آگئے۔ تقریباً ایک گھنٹہ ابوظبی میں گزرا۔ ابوظبی ایئر پورٹ کی پوری چھت خیمہ کے انداز پر بنائی گئی ہے۔ ٹھیک اسی طرح جیسے کہ اسلام آباد (پاکستان) کی فیصل مسجد کی چھت بنائی گئی ہے۔ تاہم یہ طرز تعمیر مجھے ذاتی طور پر پسند نہیں۔ میں اس کو سطحی ذوق کی علامت سمجھتا ہوں۔

ابوظبی، عرب امارات کی سات ریاستوں میں سب سے بڑی ریاست ہے۔ اس کا رقبہ ۲۶ ہزار مربع میل ہے۔ وہ اور دبئی عرب امارات کی سب سے زیادہ دولت مند ریاستیں سمجھی جاتی ہیں۔

ڈھائی سو سال پہلے ابوظبی کی حیثیت زیادہ تر غیر آباد صحرا کی تھی۔ ۱۷۶۱ء میں قبیلہ بنی یاس کو یہاں پانی کا کنواں ملا۔ اس کے بعد وہ یہاں رہ پڑا۔ اسی قبیلہ کا ایک خاندان اب تک یہاں حکمراں ہے۔ ۱۹۵۸ء میں یہاں پٹرول دریافت ہوا۔ اس کے بعد سے ابوظبی نے عالمی اہمیت حاصل کر لی۔ پانی کی دریافت نے ابوظبی کو صرف قبائلی اہمیت دی تھی۔ تیل کی دریافت نے اس کو عالمی سطح پر اہمیت کا حامل بنا دیا۔

پانی ایک سادہ انسانی ضرورت ہے۔ ایک معمولی دیہاتی آدمی بھی پانی کو دیکھے تو وہ اس کی اہمیت اور اس کے استعمال کو جان لے گا۔ مگر پٹرول کی اہمیت اور اس کے استعمال کو جاننے کے لئے صرف اس کو دیکھنا کافی نہیں۔ اس کے لئے مزید ایک پوری صنعتی تہذیب کی ضرورت ہے۔ یہی فرق ہے جس کی بنا پر پانی دریافت ہوا تو اس کا پورا فائدہ عرب قبیلہ کو ملا۔ مگر تیل دریافت ہوا تو اس کا بیشتر فائدہ مغربی قوموں کے حصہ میں چلا گیا۔

۴ اکتوبر کو ابوظبی سے دہلی کے لئے روانگی ہوئی۔ یہ سفر خلیج ایئر کے جہاز کے ذریعہ طے ہوا۔ راستہ میں شارقہ کا عربی روز نامہ الخلیج (۱۴ اکتوبر 1991) دیکھا۔ اس کے صفحہ ۶ پر ایک مضمون (النظام العربي وآفاق المستقبل) تھا۔ اس میں الامۃ العربیۃ کو مخاطب کرتے ہوئے کچھ باتیں کہی گئی تھیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1992 All issues

Printed page