Al-Risala · November 1992 · page 46

First class travel companions

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۲، صفحہ ۴۶

اس ذیل میں مضمون نگار (علی ربیعہ) نے لکھا تھا کہ صحرا کے قافلے جس قاعدہ کا اتباع کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ اپنے اندر کے سب سے کمزور کی چال چلو (سیر اضعفکم) میں نے اس کو پڑھا تو میرے دل نے کہا کہ یہ اصول صرف صحرائی سفر کے لئے نہیں ہے بلکہ زندگی کے تمام سفروں کے لئے ہے۔

مثلاً آپ کو شہر کی سڑک پر ایک جلوس نکالنا ہے۔ آپ کی جماعت میں ۹۵ فیصد ایسے لوگ ہیں جن کے اندر برداشت کی طاقت ہے۔ مگر ۵ فیصد افراد میں برداشت کی طاقت نہیں۔ ایسی حالت میں آپ کو ۵ فیصد کا لحاظ کرتے ہوئے جلوس نہیں نکالنا چاہئے۔ کیوں کہ جلوس کے پانچ فیصد افراد بے برداشت ہو کر تشد دکر بیٹھیں گے اور پھر آپ کا جلوس ملت کو فائدہ پہنچانے کے بجائے ملت کی تباہی کا سبب بن جائے گا۔

دہلی ائیر پورٹ میں داخل ہوا تو "ڈیوٹی فری شاپ" کا ایک حصہ نظر سے گزرا۔ شیشہ کی الماری کے پیچھے شراب کی بوتلیں رکھی ہوئی تھیں۔ ایک طرف شیشہ کے اوپر خوبصورت اشتہار درج تھا۔ اوپر شراب کی دو خوبصورت بوتلوں کی تصویریں تھیں ۔ اس کے نیچے یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے کہ فرسٹ کلاس سفر کا ساتھی:

First class travel companions

جن لوگوں کو "فرسٹ کلاس" کا رتبہ مل جاتا ہے، اس کے بعد ان کے لئے ساری اہمیت صرف تفریح کی رہ جاتی ہے۔ وہ شراب کو تفریح کا ذریعہ سمجھ کر اس کو اپنی زندگی کا ساتھی بنا لیتے ہیں۔ یہ زندگی کا کتنا کمتر استعمال ہے۔ زندگی کا سب سے بڑا استعمال یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو حقائق اعلی کی دریافت میں لگائے۔ مگر یہی سب سے اہم چیز دنیا میں سب سے کم پائی جاتی ہے۔ ہمارے پاس کتابوں کے کئی بنڈل تھے جو قاہرہ سے ہمارے ساتھ آرہے تھے۔ کتابوں پر کسٹم وغیرہ نہیں ہوتا۔ میں نے سوچا کہ کسٹم کا عملہ ہم کو روک کر بنڈل کھلوائے گا اور پھر غیر ضروری طور پر تاخیر ہوگی۔ مگر عین اس وقت محمد حنیف صاحب اتفاقاً وہاں آگئے جو ایئر پورٹ پر بڑے افسر ہیں۔ ان کی ہدایت پر کسٹم والے نے ہم کو روکنے کے بجائے ہماری گاڑی خود لے لی اور اس کو ٹیکسی تک پہنچایا۔ میں نے سوچا کہ کاش اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بھی ایسا ہی معاملہ فرمائے اور میرے معاملہ کو اپنی رحمت سے آسان

‹ Previous page Next page › Contents of November 1992 All issues

Printed page