Al-Risala · December 1992 · page 9

بصیرت کی اہمیت

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۲، صفحہ ۹

ذی المجاز یتخللہ یقول: یا ایھا الناس قولوا لا الہ الا اللہ تفلحوا۔ قال وابو جہل یحثی علیہ التراب ویقول لا یغوینکم هذا عن دینكم فانما يريد لتتركوا الھتکم وتتركوا اللات والعزیٰ۔ وما یلتفت الیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (۱۰۸ / ۱)

امام احمد نے نقل کیا ہے کہ بنو مالک بن کنانہ کے ایک شخص نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے (ہجرت سے پہلے) ذوالمجاز کے بازار میں دیکھا تھا۔ آپ ان کے درمیان چل رہے تھے اور یہ کہہ رہے تھے کہ اے لوگو، کہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، تم فلاح پاؤ گے۔ راوی کہتے ہیں کہ ابو جہل بھی آپ کے ساتھ تھا۔ وہ آپ پر مٹی پھینک رہا تھا اور یہ کہتا جاتا تھا کہ لوگو، یہ شخص تم کو تمہارے دین سے بہکا نہ دے۔ وہ چاہتا ہے کہ تم لوگ اپنے معبودوں کو چھوڑ دو اور لات اور عزیٰ کو ترک کردو۔ مگر میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابو جہل کی طرف کوئی توجہ نہیں فرما ر ہے ہیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ داعی کا طریقہ کیا ہے۔ جب ایک شخص لوگوں کو اللہ کے سچے دین کی طرف بلانے کے لیے اٹھتا ہے تو وہ لوگ اس کے دشمن بن جاتے ہیں جو جھوٹے دین پر کھڑے ہوئے کستے ہیں۔ وہ اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔ طرح طرح سے اس کو تکلیف پہنچاتے ہیں۔ مگر داعی پر لازم ہے کہ وہ ان کی طرف التفات نہ کرے۔ وہ ان کی ایذا رسانی سے اعراض کرتے ہوئے اپنا دعوتی کام جاری رکھے۔

ابو جہل کی شرانگیزی کے مقابلہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مذکورہ رویہ نعوذ باللہ بزدلی کی بنا پر نہ تھا۔ بلکہ وہ عین بہادری تھا۔ اسی بہادرانہ کردار کا نام صبر و اعراض ہے۔ صبر و اعراض دعوت کی لازمی قیمت ہے۔ جو شخص صبر و اعراض کا ثبوت نہ دے، وہ دعوت حق کا کام بھی انجام نہیں دے سکتا۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1992 All issues

Printed page