Al-Risala · December 1992 · page 10

اذان اسپرٹ

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۲، صفحہ ۱۰

اذان اسپرٹ

روی عن انس بن مالک رضی اللہ عنہ قال انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ قال رسول الله صلى الله عليه وسلم۔ اذا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب کسی بستی میں اذان أُذِّنَ في قرية أَمَّنَها الله عزوجل من دی جائے تو اللہ تعالیٰ اس بستی کو اس کے دن عذابه ذٰلِكَ اليوم (الترغيب والترتيب، بحوالطبرانی) کے عذاب سے بچا لیتا ہے۔ اس حدیث میں اذان دینے سے مراد صرف اس کی لفظی پکار نہیں ہے، بلکہ وہ پکار ہے جس میں اذان کے الفاظ محض بطور الفاظ نہ پکارے جائیں بلکہ وہ ایک ربانی حقیقت کے اعلان کے طور پر پکارے گئے ہوں۔

اذان کے الفاظ محض الفاظ نہیں ہیں۔ اس کا ہر فقرہ ایک اسپرٹ کو بتا رہا ہے۔ اس کو ایک لفظ میں "اذان اسپرٹ" کہا جا سکتا ہے۔ جس بستی میں اذان پکاری جائے ، وہ باعتبار حقیقت ، اس بات کا اعلان ہے کہ ہم وہ لوگ ہیں جو اذان کو ماننے والے ہیں ، ہم اذان اسپرٹ کے ساتھ اس دنیا میں رہنا چاہتے ہیں۔ اور جو بستی اذان اسپرٹ والی بستی بن جائے، وہ یقیناً دنیا اور آخرت کے عذاب سے محفوظ ہو جائے گی۔

مثلاً اذان میں سب سے زیادہ جو کلمہ دہرایا جاتا ہے وہ اللہ اکبر (اللہ بڑا ہے) کا کلمہ ہے۔ اس کلمہ کی اسپرٹ کیا ہے۔ اس کلمہ کی اسپرٹ تواضع ہے۔ اس کلمہ کی اسپرٹ یہ ہے کہ اللہ بڑا ہے انسان چھوٹا ہے۔ جو لوگ اس اذان اسپرٹ کو اپنا لیں، حتیٰ کہ وہ اعلان کرکے دوسروں کو بتا دیں کہ ہم اذان اسپرٹ کے حامل لوگ ہیں۔ وہ یقینی طور پر اس عذاب سے بھی محفوظ ہو جائیں گے جو انسانوں کی طرف سے آتا ہے اور اس عذاب سے بھی جو فرشتوں کے ذریعہ انسان کے اوپر ڈالا جاتا ہے۔

جو لوگ اللہ کو بڑا مان کر چھوٹے بن گئے ہوں وہ ایسے لوگ ہوں گے جو ظلم اور سرکشی اور عناد اور بد خواہی اور حق تلفی سے خالی ہوں گے۔ جن لوگوں کے اندر یہ خصوصیات پیدا ہو جائیں وہ لوگوں کے درمیان محبوب بن جائیں گے۔ اس کے بعد کون ہوگا جو انہیں ستائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1992 All issues

Printed page