سامان آزمایش
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۲، صفحہ ۱۱
سامان آزمایش
امتحان ہال میں ہزاروں قسم کے پرچے رکھ دیے جائیں اور طالب علموں سے کہا جائے کہ جو طالب علم خود سے جتنا پرچہ اٹھائے گا اتنا ہی امتحان اس کو دینا ہوگا۔ اگر ایسا کیا جائے تو کوئی بھی طالب علم بہت سے پرچوں کو نہیں اٹھائے گا۔ ہر طالب علم یہ چا گا کہ وہ کم سے کم پرچہ کو اٹھائے بلکہ اگر ممکن ہو تو ایک ہی پرچہ اپنے ہاتھ میں لے تاکہ اس کا امتحان آسان رہے۔
مگر ایک اور شدید تر امتحان میں تمام طالب علموں کا طریقہ اس سے مختلف ہے۔ یہاں امتحان ہال میں داخل ہونے والا ہر طالب علم یہ چاہتا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ پرچے اٹھائے۔ حتی کہ اگر ممکن ہو تو سارے ہی پرچوں پر تنہا قابض ہو جائے۔
یہ دوسرا امتحان ہال موجودہ دنیا ہے۔ دنیا کے بارہ میں اللہ نے اور اس کے رسولوں نے بار بار یہ اعلان کیا ہے کہ یہ دنیا انسانوں کے لیے امتحان گاہ ہے۔ یہاں جو کچھ کسی کو ملتا ہے یا جو کچھ کوئی شخص حاصل کرتا ہے وہ سب اس کے لیے برائے امتحان ہے۔ کامیاب وہ ہے جو اس امتحان میں پورا اترے ورنہ ناکام وہ ہے جو اس امتحان میں ناکام ہو جائے۔
یہ احساس اگر فی الواقع لوگوں کے اندر زندہ ہو تو وہ دنیا کی چیزوں کو حاصل کرنے میں انتہائی حد تک محتاط رہیں گے۔ وہ چاہیں گے کہ ان کا اثاثہ سب سے کم ہو تاکہ انہیں امتحان کے وقت کم سے کم حساب دینا پڑے۔
اگر آدمی اس حقیقت کو اچھی طرح سمجھ لے تو اس کا حال یہ ہو جائے گا کہ اس کو اگر تقسیم معاش میں زیادہ ملے گا تب بھی وہ اس کا کم سے کم حصہ اپنی ذات پر خرچ کرے گا۔ اور اس کا زیادہ حصہ اللہ کی راہ میں دے دے گا۔ وہ اپنا حاصل شدہ کمائی کو بھی اپنی ذات یا اپنی نمو دونمائش میں خرچ کرتے ہوئے ڈرے گا۔ وہ بقدر ضرورت اپنے پاس رکھ کر بقیہ کو خیر کی مدوں میں استعمال کرے گا تاکہ قیامت کے دن اس کا بوجھ ہلکا رہے ۔ دنیا کے امتحان ہال میں آدمی کم سے کم پرچہ لینا چاہتا ہے اور آخرت کے امتحان ہال میں زیادہ سے زیادہ ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ آدمی ایک پرچہ کو ذمہ داری سمجھتا ہے اور دوسرے کے بارہ میں اس کو احساس نہیں کہ وہ ذمہ داری ہے نہ کہ کوئی حق۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1992 All issues