لامحدود کی تلاش
الرسالہ، فروری ۱۹۹۲، صفحہ ۶
لامحدود کی تلاش
مسٹر خوشونت سنگھ نے اپنے ہفتہ وار کالم (ہندوستان ٹائمز ۲۷ اکتوبر ۱۹۹۱) میں آنجہانی چرن جیت سنگھ کا قصہ لکھا ہے۔ انھوں نے بے شمار تجارتیں (innumerable businesses) قائم کیں۔ انھوں نے ملک کے اندر اور ملک کے باہر بہت سی قیمتی جائدادیں بنائیں ۔ کیمپا کو لا سے لے کر فرنیچر تک طرح طرح کے نفع بخش کاروبار ان کی ملکیت تھے۔ لندن میں بھی ان کا ایک عظیم ہوٹل موجود تھا۔ جدید ترین کاروں کا ایک پورا دستہ ہمہ وقت ان کی خدمت کے لیے تیار رہتا تھا۔ وغیرہ آخر کار اپنے وسیع تجارتی ایمپائر کو چلانا ان کے لیے مشکل بن گیا۔ وہ سخت پریشان رہنے لگے۔ یہاں تک کہ خوشونت سنگھ کے الفاظ میں ________ حد سے بڑھا ہوا بوجھ ان کی طاقت سے زیادہ ثابت ہوا۔ وہ اکیاون سال کی عمر پوری کرنے سے پہلے ہی مرگئے :
The strain proved too much for him. He died before he was 51. انسان کی فطرت ایک غیر قانع فطرت ہے۔ انسان عین اپنی فطرت کے اعتبار سے اپنے لیے ایک لامحدود دنیا چاہتا ہے۔ چنانچہ ہر آدمی اپنے دائرہ کار کے اعتبار سے لامحدود دنیا حاصل کرنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے۔ مگر آخر کار وہ محسوس کرتا ہے کہ یہاں وہ اپنی لامحدود دنیا کی تعمیر نہیں کر سکتا۔ اب اس کی صلاحیتیں جواب دے دیتی ہیں۔ لامحدود کو چاہنے والا اپنی محدودیت کا شکار ہو کر ختم ہو جاتا ہے۔
کیا قدرت نے انسان کے اوپر ظلم کیا ہے۔ کیا لامحدود کی طلب دے کر انسان کو ایک ایسے محدود عالم میں بھیج دیا گیا ہے جہاں وہ کبھی اپنے مطلوب کو حاصل نہ کر سکے ۔ یہاں غلطی قدرت کی طرف نہیں ہے بلکہ انسان کی طرف ہے۔ انسان کا موجودہ مزاج اس لیے تاکہ دنیا کو اپنے لیے ناکافی پا کر وہ آخرت کی طرف لو لگائے۔ وہ اپنی ذات کی طرف دوڑنے کے بجائے خدا کی طرف دوڑے مگر انسان اس راز کو نہیں سمجھ پاتا۔ آخرت میں ملنے والی چیز کو وہ موجودہ دنیا ہی میں پالینا چاہتا ہے۔ یہاں اس کی شخصیت تضاد کا شکار ہو جاتی ہے۔ کامیابی کے امکان کے کنارہ پہنچ کر وہ اپنے آپ کو ناکامی کے گڑھے میں گر الیتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1992 All issues