Al-Risala · February 1992 · page 7

اختلاف کو بھلا دیا

الرسالہ، فروری ۱۹۹۲، صفحہ ۷

اختلاف کو بھلا دیا

گورباچوف (Mikhail Gorbachev) ۱۹۸۵ میں سوویت روس میں برسر اقتدار آئے۔ انھوں نے پارٹی میں اپنے موافق افراد لانے کے لیے اس کے ڈھانچہ کو بدلنا شروع کیا۔ اس وقت بورس یلتسین (Boris Yeltsin) پولٹ بیورو کے ممبر تھے۔ گورباچوف ان کی غیر معمولی شخصیت سے خائف تھے۔ اس لیے وہ یلتسین کو پولٹ بیورو میں شامل کرنے کے مخالف تھے۔ یہ اختلاف بڑھتا رہا۔ یہاں تک کہ ۱۹۸۷ میں یلتسین نے پارٹی کے تمام اعلیٰ عہدوں سے استعفا دے دیا :

1987: Yeltsin resigns from top party posts after row with Gorbachev and politburo colleagues. (p. 12)

۱۹۸۹ میں یلتسین جمہوریہ روس کی صدارت کے لیے کھڑے ہوئے تو گورباچوف نے ان کی مخالفت کی ۔ اور ان کے مقابلہ میں دوسرا امیدوار کھڑا کیا۔ تاہم اس مخالفت کے باوجود یلتسین کامیاب ہوئے اور جمہوریہ روس کے صدر بن گئے (ہندوستان ٹائِمْس ۲۶ اگست ۱۹۹۱)

روسی کمیونسٹ پارٹی کے انتہا پسند گروہ نے ۱۹ اگست ۱۹۹۱ کو گورباچوف کے خلاف بغاوت کی اور ان کو ہٹا کر کر یملن کی حکومت پر قابض ہو گئے۔ اس کا حوصلہ بھی ان کو اسی اختلاف سے ملا۔ وہ سمجھتے تھے کہ یلتسین اور گورباچوف کے اختلاف سے فائدہ اٹھا کر وہ گورباچوف کا خاتمہ کر سکتے ہیں۔ مگر عملاً اس کے برعکس صورت حال پیش آئی۔ بغاوت کے بعد یلتسین نے اپنے تمام اختلافات کو بھلا دیا۔ انھوں نے اپنی پوری طاقت اور اپنی ساری ذہانت گورباچوف کی حمایت پر لگادی۔ اپنی ذات کو خطرہ میں ڈال کر انھوں نے باغی حکمرانوں کے خلاف عوام کو منظم کیا۔ بغاوت کے اگلے ہی دن اس کے خلاف ماسکو میں اتنا بڑا عوامی مظاہرہ کرایا کہ باغیوں کو حکومت چھوڑ دینا پڑا۔ ۲۱ اگست ۱۹۹۱ کو گورباچوف کریمیا سے واپس آگئے اور دوبارہ حکومت کا عہدہ سنبھال لیا۔ عام طور پر تسلیم کیا گیا ہے کہ گورباچوف کا زندہ بچ جانا اور دوبارہ صدر کے عہدہ پر واپس آ جانا یلتسین کا کارنامہ ہے۔ بلند فطرت آدمی کی سب سے بڑی پہچان یہی ہے مشکل وقت میں وہ شکایت اور اختلاف کو بھلا کر انسان کا ساتھ دیتا ہے۔ جبکہ پست فطرت آدمی کا معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1992 All issues

Printed page