اجنبی دین
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۲، صفحہ ۲۱
اجنبی دین
امام مسلم بن الحجاج نے اپنی "صحیح" میں کتاب الایمان کے تحت ایک باب ان الفاظ میں قائم کیا ہے : باب بیان ان الاسلام بدأ غریباً وسيعود غريبا وانه يأرز بين المسجدين۔ اس باب کے ذیل میں انھوں نے تین روایتیں نقل کی ہیں۔ ایک روایت یہ ہے : عن ابی ھریرۃقال قال رسول الله صلی الله اللہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بدأ الاسلام غريبا علیہ وسلم نے فرمایا۔ اسلام اجنبی کی حیثیت سے وسيعود كما بدأ عن ریبیا - فطوبٰی شروع ہوا اور پھر اسی اجنبی حالت کی طرف لوٹ للشغرباء ۔
جائے گا جیسا کہ شروع ہوا تھا۔ پس خیرو سعادت ہے اجنبیوں کے لیے۔
اسلام ساتویں صدی کے عرب میں بنو اسماعیل کے درمیان آیا۔ بنو اسماعیل اصلاً ملت ابراہیمی سے تعلق رکھتے تھے۔ مگر ان کے اور حضرت ابراہیم کے درمیان ڈھائی ہزار سال کا فاصلہ تھا۔ لمبی مدت کے نتیجہ میں ان کے اندر دینی بگاڑ آچکا تھا، وہ دین ابراہیم کے نام سے صرف دین آباء کو جانتے تھے۔ اس بنا پر ابتدا ان کے لیے پیغمبر اسلام کے پیغام کو سمجھنا مشکل بنارہا۔ حدیث کے مطابق، خود ملت مسلمہ کی یہی حالت اس وقت ہو جائے گی جب کہ وہ زوال کا شکار ہو جائے۔ جب کہ وہ اسلام کی اسپرٹ کو کھودے اور ایک خود ساختہ اسلام اس کے درمیان باقی رہے ۔
امت پر جب یہ وقت آتا ہے تو وہ دین کے نام سے صرف دین اکابر کو جانتی ہے اور دین خدا اس کے لیے اجنبی چیز ہو جاتا ہے۔ قومی خواہشوں سے مطابقت کرنے والا دین اس کو دین نظر آتا ہے اور اصولوں پر مبنی دین اس کے لیے نا قابل فہم چیز بن جاتا ہے۔ ظواہر دین کی دھوم مچانے کو ایسے لوگ کام سمجھتے ہیں اور حقیقتِ دین کی بات انھیں اپنے لیے نامانوس دکھائی دیتی ہے۔ ایسے ماحول میں جو لوگ قرنِ اول والادین اختیار کریں وہ دوبارہ لوگوں کو اجنبی دکھائی دینے لگتے ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1992 All issues