Al-Risala · December 1992 · page 22

دو قسم کے رہنما

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۲، صفحہ ۲۲

دو قسم کے رہنما

جی۔ کے۔ چیسٹرٹن (G. K. Chesterton) ایک انگریز رائٹر تھا۔ وہ ۱۸۷۴ء میں لندن میں پیدا ہوا۔ ۱۹۳۶ء میں اس کی وفات ہوئی۔ اس کا قول ہے کہ ایک بڑا آدمی وہ ہے جو ہر آدمی کو یہ احساس دلائے کہ تم مجھ سے چھوٹے ہو۔ مگر حقیقی معنوں میں بڑا آدمی وہ ہے جو ہر آدمی کے اندر بڑائی کا احساس پیدا کر دے :

There is a great man who makes every man feel small. But the real great man is the man who makes every man feel great. لیڈر دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو بڑے بڑے اشو لے کر اٹھتے ہیں۔ جن کے پاس بڑے بڑے نعرے ہوتے ہیں۔ جو ہمیشہ ہائی پروفائل میں بات کر دیتے ہیں۔ ایسے لوگ ہر جگہ چھپتے ہیں۔ ہر طرف ان کا تذکرہ کیا جاتا ہے۔ ہر مقام پر ان کو استقبال ملتا ہے۔ اس طرح ان کی شخصیت نمایاں ہو جاتی ہے۔ وہ ہر آدمی کو اپنے سے بڑے دکھائی دینے لگتے ہیں۔ یہ وہ لیڈر ہیں جن کی اپنی شخصیتیں تو خوب نمایاں ہو جاتی ہیں مگر عوام کو ان سے کوئی حقیقی فائدہ نہیں ملتا۔ دوسرا لیڈر وہ ہے جو حقیقی معنوں میں عام انسان کو فائدہ پہنچانا چاہتا ہے۔ وہ ہر آدمی کا درد اپنے سینے میں لیے ہوئے ہوتا ہے۔ اس کا یہ مزاج اس کو ایسے کام کی طرف لے جاتا ہے جو ایک عام انسان کے لیے تو یقیناً بے حد مفید ہوتا ہے مگر وہ کہنے میں کوئی بڑا کام نظر نہیں آتا۔ وہ اخبار کے صفحہ اول کی سرخی نہیں بنتا۔ اس کی بنیاد پر اس کو تعریفی قصیدے نہیں ملتے۔ ایسے لیڈر کا عمل اس کو ذاتی شہرت تو نہیں دیتا۔ البتہ قوم کے ہر فرد کو وہ اونچا کر دیتا ہے۔ وہ ہر آدمی کو اپنے دائرہ میں ہیرو بناتا ہے۔ وہ ہر آدمی کی شخصیت کو بلند کر دیتا ہے۔ عظمت پرست لوگ اگرچہ پہلی قسم کے لیڈروں ہی کی پوجا کرتے ہیں۔ مگر انسانیت کے حقیقی خیر خواہ صرف دوسری قسم کے لیڈر ہیں۔ وہ اپنے کو چھوٹا کر کے دوسروں کو بڑا بنا دیتے ہیں۔ وہ اپنے کو بنیاد میں دفن کر کے دوسروں کو اونچے مینار کی مانند کھڑا کر دیتے ہیں۔ وہ اپنی نفی کر کے دوسروں کے لیے اثبات کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1992 All issues

Printed page