Al-Risala · December 1992 · page 24

ربانی انسان

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۲، صفحہ ۲۴

ربانی انسان

اسلامی تحریک کا مقصد حکومتوں کو توڑنا یا کسی قسم کا نظام قائم کرنا نہیں ہے۔ اسلامی تحریک کا مقصد انسان بنانا ہے۔ اسلامی تحریک کی ساری کوشش یہ ہوتی ہے کہ ایک انسان کو ربانی انسان بنائے۔ جب اس قسم کے انسان کسی سماج میں بڑی تعداد میں تیار ہو جائیں ، تو ان کے مجموعی ارادہ سے جو چیز ظہور میں آتی ہے اسی کا نام اسلامی نظام ہے۔

اسلام کا نشانہ فرد ہے۔ اسلام ایسے انسان پیدا کرنا چاہتا ہے جو خدا کو ایک زندہ اور حاضر و ناظر ہستی کی حیثیت سے پالیں۔ وہ دنیا میں خدا کی کاریگری کو دیکھ کر حیران رہ جائیں۔ وہ اس کے احسان انصات کو سوچ کر اس کے شکر کے جذبہ سے نہا اٹھیں۔ وہ اس کی قوت و عظمت کو محسوس کر کے دہل جائیں۔ وہ اس کی پکڑ کے احساس سے ڈھ پڑیں۔

خدا کی موجودگی کا احساس ان کے اوپر اتنا زیادہ طاری ہو کہ ان کو اس سے حیا آنے لگے۔ کوئی برا کام کرتے ہوئے ان کو ایسا لگے جیسے خدا کی نگاہیں اس کو برچھی کی طرح چھید رہی ہیں۔ کسی کے اوپر ظلم کرتے ہوئے انھیں دکھائی دے کہ خدا کے فرشتے خدا کی جہنم کو لیے ہوئے کھڑے ہیں اور اس کی تمام ہولناکیوں کے ساتھ اس کو ان کے اوپر انڈیل دینا چاہتے ہیں۔

ایمان کے متعلق بتایا گیا ہے کہ وہ خوف اور امید کے درمیان ہوتا ہے۔ مومن ایک طرف خدا کے خوف سے کانپتا ہے۔ اسی ساتھ وہ اس کی رحمت کا امیدوار بھی رہتا ہے۔ حتی کہ اہل ایمان کے دل میں خدا کی جنت کا شوق اتنا بڑھتا ہے کہ وہ خدا کی جنت کے تصور سے رقص کرنے لگتے ہیں۔ اپنی کوتاہیوں کا احساس اگر ان کے اندر خشیت کی بھتھری پیدا کرتا ہے تو اسی کے ساتھ اللہ کی رحمت اور محبت کا احساس ان کو جنت کے لہلہاتے ہوئے باغوں کا مشاہدہ اسی دنیا میں کرا دیتا ہے۔ حکومتوں سے ٹکرانا اور سیاسی انقلاب کے نعرے لگانا کوئی کام نہیں۔ اصل کام یہ ہے کہ ایسے انسان پیدا کیے جائیں جو خدا کی زمین پر خدا کے خوف اور خدا کی محبت سے سرشار ہو کر چلنے لگیں۔ ایسے انسان ہی دنیا میں انسانیت کی بہار لاتے ہیں اور جہاں ایسے انسان نہ ہوں، وہاں خزاں کے سوا کوئی اور چیز وجود میں آنے والی نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1992 All issues

Printed page