سبب اپنے اندر
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۲، صفحہ ۲۵
سبب اپنے اندر
قرآن میں جس طرح ذکر و عبادت کے احکام ہیں، اسی طرح قرآن میں اجتماعی امور کی بابت بھی کھلے بیانات موجود ہیں۔ اس اعتبار سے جب ہم موجودہ معاملہ میں قرآن کی رہنمائی معلوم کرنا چاہتے ہیں تو قرآن نہایت واضح طور پر یہ بتاتا ہوا نظر آتا ہے کہ اس دنیا میں جو افتاد بھی کسی کے ساتھ پیش آتی ہے وہ حقیقۃً ایک کے اوپر دوسرے کی زیادتی نہیں ہوتی، بلکہ وہ کمزور فریق کی کمزوری کی سزا ہوتی ہے جو طاقت ور فریق کی طرف سے اسے بھگتنی پڑتی ہے۔ آخرت میں ہر ایک کا جو حساب ہوگا، وہ الگ معاملہ ہے۔ مگر دنیا کے اعتبار سے جو صورتِ حال ہے وہ یہی ہے۔
قرآن (البقرہ ۳۰) میں واضح طور پر اعلان کیا گیا ہے کہ جو مصیبت بھی تمہارے اوپر پڑتی ہے وہ خود تمہارے اپنے کیے کا نتیجہ ہوتی ہے (وما اصابکم من مصیبۃ فبما کسبت ایدیکم) الشورى ایک مرفوع حدیث کے مطابق ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اے علی، جو بھی بیماری یا سزا یا مصیبت تم کو پہنچتی ہے وہ خود تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی ہوتی ہے (یاعلی، ما اصابكم من مرض اوعقوبة اوبلاء في الدنيا فبما كسبت ايدیکم) الجامع لاحكام القرآن ۲۰۱/۱۶ قرآن میں اس اصول کا انطباق سب سے پہلے خود صحابہ کرام کی جماعت پر کیا جا چکا ہے یہ انطباق بعد کے مسلمانوں کے لیے نہایت سبق آموز ہے۔
ایک مثال غزوہ احد (۳ھ) کی ہے۔ یہ جنگ ایک طرف پر مخالفین اسلام کی سازش اور ان کی جارحیت کے نتیجہ میں پیش آئی تھی۔ اس جنگ میں ابتداءً مسلمان کامیاب ہو گئے۔ مگر آخر میں ان کو شکست ہوئی۔ قرآن میں اس پر تبصرہ کیا گیا تو مخالفین اسلام کی کھلی زیادتیوں کے باوجود ہارنے کی ذمہ داری خود مسلمانوں کے اوپر ڈال دی گئی۔ کہا گیا کہ اس جنگ میں شکست کا سبب یہ تھا کہ تم نے کمزوری دکھائی، تم نے معاملہ میں نزاع کیا اور تم نے رسول کی ہدایت کی خلاف ورزی کی (حتی اذا فشلتم وتنازعتم في الامر وعصيتم من بعد ما اراكم ما تحبون) آل عمران ۱۵۲
‹ Previous page Next page › Contents of December 1992 All issues