سبب اپنے اندر
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۲، صفحہ ۲۶
دوسری مثال غزوۂ حنین (۸ھ) کی ہے۔ اس جنگ میں بھی تمام تر زیادتی مخالفینِ اسلام کی تھی۔ انھوں نے فدارانہ طور پر مسلمانوں کی جماعت پر حملہ کر دیا تھا۔ اس جنگ میں ابتداءً مسلمانوں کو شکست ہو گئی۔ وہ میدانِ جنگ سے بھاگنے لگے۔ تاہم بعد کو وہ پھر سنبھلے اور دوبارہ جنگ کی۔ دوبارہ جنگ میں اللہ تعالیٰ نے انھیں کامیابی عطا فرمائی۔
اس جنگ میں مخالفین نے مسلمانوں کو کافی نقصان پہنچایا تھا۔ اس پر قرآن میں تبصرہ کیا گیا۔ اس تبصرہ میں بھی، مخالفین کی کھلی ہوئی زیادتی کے باوجود خود مسلمانوں کو تنبیہ کی گئی۔ فرمایا کہ حنین میں ابتدأ جو شکست اور نقصان پیش آیا اس کی وجہ تمہاری یہ کمزوری تھی کہ تم کو اپنی کثرتِ تعداد پر ناز ہو گیا (ویوم حنین اذ اعجبتکم کثرتکم فلم تغن عنکم شیئا) التوبہ ۲۵ قرآن و حدیث کے ان بیانات کے مطابق، صحیح طریقہ یہ ہے کہ جب ایک فریق دوسرے فریق کی زیادتی کا شکار ہو تو زیادتی کا شکار ہونے والا فریق شکایت اور احتجاج میں اپنا وقت ضائع نہ کرے۔ اس کے برعکس اس کو چاہیے کہ وہ اپنا ذاتی احتساب کرنا شروع کر دے۔ وہ دوسروں کے ظلم کا اعلان کرنے کے بجائے اپنی کوتاہیوں کو تلاش کرے۔ وہ دوسروں سے مطالبہ کرنے کے بجائے خود اپنی حالت کی اصلاح کی طرف توجہ دے۔ کیوں کہ جو کچھ پیش آیا ہے، اس کا سبب خود اس کے اپنے اندر ہے نہ کہ اس کے باہر۔
جس مسئلہ کا سبب آدمی کے اپنے اندر ہو، اس کے بارہ میں دوسروں کے خلاف شور و غل کرنا محض اپنا وقت ضائع کرنا ہے۔ ایسی کوششوں سے اس کو کچھ ملنے والا نہیں۔ اس کے معاملہ کی اصلاح صرف اپنی کمیوں کو دور کرنے سے ہو سکتی ہے، اور پہلی فرصت میں اس کو اسی اصل کام میں لگ جانا چاہیے۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1992 All issues