ٹالرنس: فطرت کا اصول
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۲، صفحہ ۲۸
اختیار کر دوسروں کے ساتھ زندگی گزارنا ہے۔
جب بھی زیادہ لوگ ساتھ مل کر زندگی گزاریں گے تو ان کے درمیان شکایت اور اختلاف کے واقعات بھی ضرور پیدا ہوں گے۔ ایسا ایک گھر کے اندر ہوگا، پورے کے ملک میں ہوگا، اور اسی طرح بین اقوامی زندگی میں بھی ہوگا۔ انسان خواہ جس سطح پر بھی ایک دوسرے سے ملیں اور تعلقات قائم کریں، ان کے درمیان ناخوش گوار واقعات کا پیش آنا بالکل لازمی ہے۔
ایسی حالت میں کیا کیا جائے ، ٹالرنس اسی سوال کا جواب ہے۔ ایسی حالت میں ایک شخص دوسرے شخص کے ساتھ اور ایک گروہ دوسرے گروہ کے ساتھ رواداری اور برداشت کا معاملہ کرے۔ مل جل کر زندگی گزارنے اور مل جل کر ترقی کرنے کی یہی واحد قابل عمل صورت ہے۔ اس اسپرٹ کے بغیر انسانی تمدن کی تعمیر اور اس کی ترقی ممکن نہیں۔ ٹالرنس کوئی انفعالی رویہ نہیں، وہ عین حقیقت پسندی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ آدمی کے لیے زیادہ بہتر چوائس (choice) لینے کا موقع تھا اور اس نے پست ہمتی کی بنا پر ایک کمتر چوائس کو اختیار کر لیا۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں اس کے سوا کوئی اور چوائس ہمارے لیے ممکن ہی نہیں۔ ٹالرنس ہماری ایک عملی ضرورت ہے نہ کہ کسی قسم کی اخلاقی کمزوری۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی ایک صورت حال کو اپنے لیے ناخوش گوار پا کر اس سے لڑنے لگتا ہے اور بالآخر تباہی سے دوچار ہوتا ہے۔ ایسا کیوں ہوتا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آدمی نے اپنی کوتاہ نظری کی بنا پر یہ سمجھا کہ اس کے لیے انتخاب خوش گوار اور ناخوش گوار کے درمیان ہے۔ وہ ناخوش گوار کو لڑائی تا کہ خوش گوار کو حاصل کر سکے۔
حالانکہ نتیجہ نے بتایا کہ اس کے لیے انتخاب خوش گوار اور ناخوش گوار کے درمیان نہیں تھا بلکہ اس کے لیے انتخاب ناخوش گوار اور تباہی کے درمیان تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کے لیے انتخاب خوش گوار اور ناخوش گوار کے درمیان ہو۔ زیادہ تر ایسا ہوتا ہے کہ اس کے لیے انتخاب کم ناخوش گوار اور زیادہ ناخوش گوار میں ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں عقل مندی یہی ہے کہ آدمی زیادہ ناخوش گوار سے بچنے کے لیے کم ناخوش گوار پر راضی ہو جائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1992 All issues