Al-Risala · December 1992 · page 29

ٹالرنس: فطرت کا اصول

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۲، صفحہ ۲۹

بیشتر انسان اسی غلط فہمی کا شکار ہو کر اپنے کو برباد کرتے رہتے ہیں۔ وہ ایک اقدام کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ان کا اقدام ناپسندیدہ صورت حال کو ہٹا کر پسندیدہ صورت حال کو لانے کے لیے ہے۔ مگر جب موجودہ صورت حال ختم ہو جاتی ہے تو ان کو معلوم ہوتا ہے کہ نئی صورت حال میں وہی ناخوش گواری زیادہ بڑی مقدار میں موجود ہے جس کی کم مقدار کو برداشت کرنے کی وجہ سے انھوں نے اپنا اقدام کیا تھا۔

ٹالرنس اسی حکمت کا نام ہے۔ اس دنیا میں برداشت کرنا آدمی کو زندگی کی طرف لے جاتا ہے اور نہ بے برداشت ہو جانا صرف موت کی طرف۔

ٹالرنس کا طریقہ ہم کو فرصت عمل دیتا ہے۔ اس کی وجہ سے یہ ممکن ہوتا ہے کہ ہم ناموافق حالات سے ایڈجسٹ کر کے اپنے لیے وہ موقع حاصل کر لیں جب کہ ہم اپنی زندگی کا سفر معتدل طور پر جاری رکھ سکیں۔ اس کے برعکس اگر ہم ٹالرنس کو چھوڑ دیں اور جو چیز بھی ہم کو ناموافق نظر آئے اس سے لڑنے لگیں تو اس کا نتیجہ صرف یہ ہوگا کہ ہم ایک چیز کو " برائی “ کے نام سے ختم کریں گے، صرف اس لیے کہ اس کے بعد ایک اور شدید تر برائی میں اپنے آپ کو مبتلا کر لیں۔

شیر اور ہاتھی اگر ایک دوسرے کو گوارا نہ کریں تو دونوں اپنی موت کو دعوت دیں گے۔ مگر جب وہ ایک دوسرے کو گوارا کرتے ہیں تو دونوں اپنے لیے زندگی کا موقع پا لیتے ہیں۔ یہ ٹالرنس کا سب سے بڑا فائدہ ہے۔ ٹالرنس آپ کو فرصت عمل دیتا ہے۔ وہ آپ کو کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ اور اس دنیا میں بلاشبہ سب سے بڑی چیز فرصت عمل ہے۔ فرصت عمل سے محرومی ہی کا نام بربادی ہے۔ اور فرصت عمل کو پا کر اس کو استعمال کرنے ہی کا نام کامیابی۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1992 All issues

Printed page