تدبیر نہ کہ ٹکراؤ
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۲، صفحہ ۶
تدبیر نہ کہ ٹکراؤ
مولانا جلال الدین رومی کا درجہ مسلمانوں میں بہت اونچا ہے۔ تقریباً ۲۶ ہزار اشعار پر مشتمل ان کی مثنوی معنوی مسلمانوں کے درمیان تقدس کی حد تک مقبول ہے۔ یہ مثنوی صدیوں تک ایک رہنما کتاب کی حیثیت سے علماء کے درمیان پڑھی جاتی رہی ہے۔
۱۲۵۸ میں تاتاریوں نے بغداد کو تباہ کیا اور عباسی سلطنت کا خاتمہ کر دیا۔ انھوں نے مسلم دنیا پر اپنی ظالمانہ حکومت قائم کر دی۔ اس وقت مولانا روم کی عمر تقریبًا پچاس سال تھی۔ انھوں نے اپنی مثنوی کے ذریعہ مسلمانوں کو روحانی اور اخلاقی سبق دیا اور انہیں اوپر اٹھانے کی کوشش کی۔ اسی کے ساتھ انھوں نے وقت کے مسائل میں بھی مسلمانوں کو رہنمائی دی۔ انھوں نے اپنی فارسی مثنوی میں حکایت اور تمثیل کی زبان میں مسلمانوں کو بتایا کہ ان حالات میں مسلمانوں کو کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں کرنا چاہیے۔ اس سلسلہ میں ایک سبق آموز کہانی شیر اور خرگوش کی کہانی ہے جو مثنوی کے "دفتر اول" میں تفصیل کے ساتھ بیان ہوئی ہے۔ اس کہانی کا خلاصہ یہ ہے :
جنگل میں ایک شیر تھا۔ وہ ہر روز اپنی بھوک مٹانے کے لیے جانوروں پر حملہ کرتا تھا۔ اور پکڑ کر انھیں اپنی خوراک بناتا تھا، اس کے نتیجہ میں تمام جانور مستقل طور پر دہشت اور خوف میں پڑے رہتے تھے۔ آخر انھوں نے اس کا ایک حل نکالا۔ انھوں نے شیر سے بات کر کے اس کو اس پر راضی کیا کہ وہ ان پر حملہ نہ کرے ۔ وہ خود اپنی طرف سے ہر روز ایک جانور اس کے پاس بھیج دیا کریں گے ۔
اس تجویز پر عمل ہونے لگا۔ اس کی صورت یہ تھی کہ ہر روز قرعہ کے ذریعہ یہ طے کیا جاتا کہ آج کون سا جانور شیر کی خوراک بنے گا۔ جس جانور کے نام قرعہ نکلتا اس کو شیر کے پاس بھیج دیا جاتا۔ اس طرح تمام جانور امن کے ساتھ جنگل میں رہنے لگے ۔ آخر کار قرعہ ایک خرگوش کے نام نکلا۔ یہ خرگوش پہلے سے سوچے ہوئے تھا کہ جب میرے نام قرعہ نکلے گا تو میں اپنے آپ کو شیر کی خوراک بننے نہیں دوں گا۔ بلکہ تدبیر کے ذریعہ خود شیر کو ہلاک کر دوں گا ۔
سوچے سمجھے منصوبے کے مطابق، خرگوش ایک گھنٹہ کی تاخیر کے ساتھ شیر کے پاس پہنچا۔ شیر بہت بھوکا تھا وہ تاخیر کی بنا پر اس کے اوپر بگڑ گیا۔ نیز صرف ایک چھوٹا خرگوش دیکھ کر اس کو اور بھی زیادہ غصہ آیا۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1992 All issues