Al-Risala · January 1992 · page 7

تدبیر نہ کہ ٹکراؤ

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۲، صفحہ ۷

خرگوش نے نرمی اور لجاجت سے کہا کہ جناب، بات یہ ہے کہ آپ کی سلطنت میں ایک اور شیر آگیا ہے۔ جانوروں نے آپ کی آج کی خوراک کے لیے دو خرگوش بھیجے تھے، مگر دوسرا شیر ہمارے اوپر جھپٹا۔ ایک کو تو اس نے پکڑ لیا۔ میں کسی طرح بھاگ کر آپ کے پاس آیا ہوں۔

اب شیر کا غصہ دوسرے شیر کی طرف مڑ گیا۔ اس نے چلا کر کہا کہ دوسرا شیر کون ہے جس نے اس جنگل میں آنے کی جرأت کی ہے۔ مجھے اس کے پاس لے چلو۔ تاکہ میں اس کا قصہ تمام کر دوں۔ اب خرگوش کے ساتھ شیر روانہ ہوا۔ خرگوش نے شیر کو ادھر اُدھر گھمایا اور آخر میں اس کو ایک کنویں کے کنارے لا کر کھڑا کر دیا اور کہا کہ حضور، وہ شیر اس کے اندر موجود ہے، آپ خود اس کو دیکھ لیں۔ شیر نے کنویں کے اوپر سے جھانکا تو نیچے پانی میں اس کو اپنا عکس نظر آیا۔ اس نے سمجھا کہ خرگوش کا کہنا درست ہے اور واقعتاً اس کے اندر ایک اور شیر موجود ہے۔ شیر غرایا تو دوسرا شیر بھی غرا اٹھا۔ اپنی سلطنت میں اس طرح ایک اور شیر کا گھس آنا اس کو برداشت نہیں ہوا۔ وہ چھلانگ لگا کر مفروضہ شیر کے اوپر کود پڑا۔ اور پھر کنویں میں پڑا پڑا مر گیا۔

اس طرح ایک خرگوش نے تدبیر کی طاقت سے شیر جیسے دشمن کا خاتمہ کر دیا۔ مولانا روم آخر میں کہتے ہیں کہ اس کی تدبیر کا جال گویا شیر کا پھندا تھا۔ کیسا عجیب تھا وہ خرگوش جو ایک شیر کو اچک لے گیا : دام مکر او کمند شیر بود طرفہ خرگوشے کہ شیرے را ربود یہ حکایت کی زبان میں ایک رہنمائی تھی جو مولانا روم نے اپنے زمانہ کے مسلمانوں کو دی۔ مولانا روم نے مسلمانوں کو مجاہدانہ اقدام پر نہیں ابھارا۔ انھوں نے یہ نہیں کہا کہ جنگل کے تمام باسیوں کو چاہیے کہ وہ متحد ہو کر شیر کے اوپر حملہ کر دیں۔ اگر انھوں نے شیر کو مار ڈالا تو وہ غازی کا لقب پائیں گے۔ اور اگر شیران کو مارنے میں کامیاب ہو گیا تب بھی کوئی نقصان نہیں۔ کیوں کہ ایسی صورت میں وہ سب کے سب شہید قرار دیے جائیں گے۔ اور جس کو شہادت کا درجہ ملے اس کو بہت بڑا درجہ مل گیا ۔ مولانا روم نے اس کے برعکس مسلمانوں کو حکیمانہ تدبیر کی طرف رہنمائی دی۔ انھوں نے موت کے بجائے زندگی کا طریقہ بتایا۔ ان کی بتائی ہوئی حکیمانہ تدبیر میں انسان کو ابتداءً چھوٹا بننا پڑتا ہے مگر آخری مرحلہ میں پہنچ کر وہ بڑائی اور فتح کے بلند مقام کو پا لیتا ہے۔

مولانا روم کی یہ نصیحت حال کے لیے بھی اتنی ہی کار آمد ہے جتنی وہ ماضی کے لیے کار آمد تھی۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1992 All issues

Printed page