Al-Risala · December 1992 · page 32

تنظیم

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۲، صفحہ ۳۲

اصل مسئلہ

فریڈرک اعظم (۱۷۸۶ - ۱۷۱۲) روس کا بادشاہ تھا۔ اس کو ملک میں وصول ہونے والے ٹیکس کی مقدار کم نظر آئی۔ اس نے ٹیکس کی شرح بڑھادی۔ تاکہ اس کے خزانہ میں زیادہ مقدار میں رقم جمع ہوسکے مگر اس کے بعد وصول شدہ ٹیکس کی جو رقم خزانہ میں آئی وہ پچھلے سالوں سے کچھ زیادہ نہ تھی۔ بادشاہ نے اپنے درباریوں سے کہا کہ کیا بات ہے، ٹیکس کی شرح میں اضافے کے باوجود ٹیکس کی رقم میں کوئی خاص اضافہ نہیں ہوا۔

دربار میں ایک پرانا فوجی جنرل تھا۔ اس نے بادشاہ کے سوال کا جواب عملی صورت میں دیا۔ اس نے برف کا ایک ٹکڑا ہاتھ میں لے کر اس کو اوپر بلند کیا۔ اور لوگوں سے کہا کہ اس کو دیکھ لیجیے کہ یہ کتنا بڑا ہے۔ اس کے بعد اس نے برف کو اپنے قریب کے آدمی کو دیا اور اس سے کہا کہ اس کو دست بدست بادشاہ تک پہنچاؤ۔ اب ایک نے دوسرے کو اور دوسرے نے تیسرے کو دیتے ہوئے برف کو آگے بڑھایا۔ یہاں تک وہ بادشاہ تک پہنچ گیا۔ برف جب بادشاہ تک پہنچا تو وہ گھٹتے گھٹتے مگ پر کچھ کے دانے کے برابر ہو چکا تھا۔

اس مثال سے مذکورہ جنرل نے بادشاہ کو یہ سبق دیا کہ سرکاری مالیہ میں کمی کی وجہ عمال کی بدعنوانی ہے نہ کہ ٹیکس کی شرح میں کمی۔ اگر عمال کے اندر بدعنوانی کو ختم نہ کیا جائے تو وصول شدہ رقم کا بڑا حصہ ان کی جیب میں جاتا رہے گا اور حکومت کے حصہ میں آنے والی رقم بدستور وہی کی وہی رہے گی۔ یہی صورت حال آج ہندوستان کی ہے، ہمارے یہاں ہر سال ٹیکسوں میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ مگر حکومت کو ملنے والی رقم میں مطلوبہ اضافہ نہیں ہوتا۔ کیوں کہ حد درجہ بڑھے ہوئے کرپشن کی وجہ سے ٹیکس کی پوری رقم حکومت کے خزانہ میں نہیں پہنچتی۔ وہ افسروں کی جیب میں چلی جاتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق ہندوستان اس وقت دنیا کا چوھت سب سے زیادہ مقروض ملک ہے۔ ہندوستان پر اس وقت جو غیر ملکی قرضہ ہے، اس کی مقدار ترسٹھ ارب ڈالر ہے۔

ہندوستان کے اقتصادی مسئلہ کا حل کرپشن کو گھٹانا ہے نہ کہ ٹیکس کو بڑھانا۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1992 All issues

Printed page