Al-Risala · December 1992 · page 40

S. Arabia cuts off oil supply to Jordan

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۲، صفحہ ۴۰

دوں کہ وہ خدائے ذو الجلال کی خدمت میں بطور ہدیہ پیش کرنے کے قابل ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ میں اس قسم کے کسی تصور کو خدا کی تصغیر کے ہم معنی سمجھتا ہوں۔

۲۲ ستمبر کو مقامی وقت سے ڈھائی بجے دن میں جہاز طرابلس کے ہخدا،ئی اڈہ پر اتر گیا۔ پوری پرواز نہایت ہموار تھی۔ اس کے کیپٹن (قائد الطائرہ) عبد اللہ المدبر تھے۔ جسر بوں میں اب ٹیکنیکل ماہرین کافی تعداد میں پیدا ہو چکے ہیں۔

ایئر پورٹ سے شہر آتے ہوئے سڑک پر ایک جگہ یہ کتبہ لکھا ہوا نظر آیا: الوحدة العربية ضرورة حتمية (عرب اتحاد ناگزیر ضرورت)، اس کو پڑھتے ہوئے خیال آیا کہ پچاس سال سے اس قسم کے الفاظ ہر جگہ بولے اور لکھے جا رہے ہیں، مگرعین ان الفاظ کے ہجوم میں عرب اتحاد آج خلیج عرب میں غرق ہو چکا ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ کلام اتحاد کو واقع بننے کے لئے شعور اتحاد درکار ہے۔ اور شعور اتحاد ساری مسلم دنیا میں کہیں موجود نہیں۔ لوگ اتحاد یوں کے ساتھ متحد ہونا جانتے ہیں۔ حالانکہ حقیقی اتحاد اس وقت قائم ہوتا ہے جب کہ لوگ اختلافیوں کے ساتھ متحد ہونے کو جان لیں۔

طرابلس میں میرا قیام فندق باب البحر (کمرہ ۷۸۳) میں تھا۔ ۲۳ ستمبر کی صبح کو ناشتہ کی میز پر ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ وہ کسی قدر مختلف لہجہ میں انگریزی بول رہے تھے۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ وہ پہلے عیسائی منسٹر تھے۔ ۱۹۸۳ میں مسلمان ہو گئے۔ اپنی عمر انھوں نے ۶۶ سال بتائی۔ ان کا قدیم نام فسی ہوئی منو (Fisii Hoi Manu) تھا۔ موجودہ نام "فیاض ہے: Haji Faiyaz Manu, P.O. Box 1156 Nukualofa, Tonga Island, South Pacific Ocean میں نے پوچھا کہ آپ نے کیسے اسلام قبول کیا۔ انھوں نے کہا کہ میری ملاقات فجی کے ایک مسلمان محمد عثمان خاں) سے ہوئی ۔ میں نے ان پر عیسائیت کی تبلیغ کرنی چاہی۔ اس طرح میرے اور ان کے درمیان گفت گو شروع ہوئی۔ یہ بحث کئی دن تک جاری رہی۔ میرا کہنا تھا کہ یسوع مسیح خدا (Goc) تھے ۔ انھوں نے کہا کہ انجیل کے مطابق، حضرت مسیح نے آخر وقت میں ایلی ایلی (میرے وا ، میرے خدا ! ) پکارا ۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ اپنے سوا کسی اور کو خدا سمجھتے تھے۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1992 All issues

Printed page