S. Arabia cuts off oil supply to Jordan
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۲، صفحہ ۴۱
میں نے کہاا کہ یسوع مسیح دنیا کے نجات دہندہ (Saviour of the World) تھے۔ انھوں نے کہ کہ جو انسان ، آپ کے بیان کے مطابق ، خود اپنے آپ کو یہودیوں اور رومیوں سے نہ بچاسکا ، وہ ساری دنیا کو کس طرح بچائے گا۔ اس طرح بحثیں ہوتی رہیں۔ یہاں تک کہ مجھ اسلام کی صداقت واضح ہوگئی اور میں نے اسلام قبول کرلیا۔
۴ ستمبر ۱۹۹۰ کی صبح کو اس عالمی کانفرنس کا افتتاح ہوا اور ۲۸ ستمبر تک جاری رہا۔ اس کا شعار تھا ــــــــ " الدعوة الاسلامية وآفاق المستقبل " اس کانفرنس میں مختلف ملکوں کے ۲۵۰ سے زیادہ افراد شریک ہوئے ۔ یہ سب ۳۰ تنظیموں کے نمائندہ تھے۔ صدر جلسہ نے اپنی افتتاحی تقریر میں کہا کہ دنیا جو اس وقت مختلف بحرانوں سے گزر رہی ہے ، وہ دراصل دین اسلام کی محتاج ہے جو کہ فی الواقع سچا دین ہے (ان العالم الي يمر بأزمات الآن هو في حاجة الى الاسلام لأن الاسلام هو الدين الحقیقی ، تاہم بہت کم لوگوں نے اصل موضوع پر اظہار خیال کیا۔ زیادہ تر لوگوں کی تقریروں کا رخ استعماری سازشوں اور صلیبی اور صہیونی ذ حملوں کی طرف رہا۔
کانفرنس کی کارروائیاں ذات العماد کے ہال میں ہوئیں جو انتہائی جدید طرز پر بنایا گیا ہے مگر تقریریں زیادہ تر تقلیدی انداز کی تھیں۔ ایک مقرر اپنی پر جوش تقریں تقریباد کے اسٹیج سے اترے تو میں نے کہا کہ آپ لوگ " جدید طرز کے ہال میں قدیم طرز کی تقریر کر رہے ہیں۔ " تقریروں اور مقالوں کی زبان عربی اور انگریزی تھی۔
موتمر میں بیش تر لوگوں نے جوش کے انداز میں تقریر کی۔ تاہم بعض لوگ نہایت سنجیدہ نظر آئے ۔ مثلاً یوگوسلاویہ کے ڈاکٹر احمد سلاویہ نے اپنی عربی تقریر میں کہا کہ موجودہ زمانہ میں کام کا بہترین طریقہ پرامن طریقہ ہے ۔ ہم کو علمی اسلوب میں اپنا کام کرنا چاہئے۔ ہم کو ٹکراؤ سے ہمیشہ پرہیز کرنا چاہئے۔ حتیٰ کہ اگر فریق ثانی ٹکراؤ شروع کرے تب بھی ہم کو ٹکراؤ سے بچ کر اپنا کام علمی اور دوستی اسلوب میں جاری رکھنا چاہئے۔ ان کی تقریر پر مجھے پسند آئی ۔ مگر خواہش کے باوجود الگ سے میں ان سے ملاقات نہ کرسکا۔
ایک صاحب کناڈا سے آئے تھے۔ انھوں نے اپنی انگریزی تقریر میں ایک بات کہی جو مجھے
‹ Previous page Next page › Contents of December 1992 All issues