S. Arabia cuts off oil supply to Jordan
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۲، صفحہ ۴۷
جدیدا۔ فمعنی الحدیث، علیکم ان تتفكروا او تفکروا فی حقیقۃ التوحید فتز دا ۱ معرفتكم. ایک صاحب نے کہا کہ آپ اکثر اپنی تحریروں میں سائنٹفک نظریات سے اسلام کی صداقت ثابت کرتے ہیں۔ اگر بعد کو یہ سائنسی نظریات غلط ثابت ہو جائیں تو ایک شخص کہہ سکتا ہے کہ اسلام کی تعلیمات غلط ہیں۔ میں نے کہا کہ جو شخص اس قسم کی بات کرے اس سے آپ کو کہنا چاہئے کہ تمہارا اعتراض غلط ہے۔ تم اسلام کی اصل تعلیم کو دیکھو نہ کہ ایک شخص کی تفسیر کو۔ کیوں کہ جو چیز غلط ثابت ہوئی ہے وہ ایک شخص کی تفسیر ہے نہ کہ خود اسلام کا متن۔
دوسری بات یہ کہ یہ ایک ناقابل عمل چیز ہے۔ مثلاً قرآن میں ہے کہ اعدوالہم ما استطعتم من قوة اس آیت کے بارہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آلہ ان القوة الرمي الا ان القوة الرمي قوت سے مراد تیر مارنا ہے، قوت سے مراد تیر مارنا ہے یہ واضح طور پر آیت کی زمانی تفسیر ہے نہ کہ ابدی تفسیر۔ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے زمانہ میں یہ تفسیر نہ کرتے اور یہ سمجھ کر چھوڑ دیتے کہ آئندہ یہ تفسیر لوگوں کو غلط نظر آئے گی تو یہ حکمت کے خلاف ہوتا کیوں کہ تفسیر نہ کرنے کی صورت میں آیت کا وہ زمانی فائدہ حاصل نہ ہوتا جس کو حاصل کرنا ضروری تھا۔ ایک صاحب علم النفس کے ڈاکٹر تھے۔ انھوں نے کہا کہ انسان کے اخلاقی اوصاف میں کسی خارجی عنصر کا کوئی دخل نہیں ہے۔ وہ صرف کیمیائی عمل (chemical reactions) کے نتیجہ میں پیدا ہوتے ہیں۔ مثلاً نفرت اور محبت، معافی اور انتقام، دینا اور چھینا، سب جسم کے اندر کیمیائی تبدیلیوں کے سبب سے ظہور میں آتے ہیں۔ میں نے کہا کہ اگر اس کو مان لیا جائے تو منطقی طور پر اس کا کوئی جواز نہیں رہتا کہ کسی مجرم کو سزا کیوں دی جائے۔ سزا کا تصور لازمی طور پر ارادہ کو تسلیم کرتا ہے۔ اگر کسی کے جرم میں اس کا اختیار اور ارادہ شامل نہ ہو تو اس کو اس کے کسی جرم پر سزا دینا کس طرح جائز ہوگا۔
ایک صاحب مغرب کے تعلیم یافتہ تھے۔ ان سے ڈارون کے نظریہ ارتقاء پر گفتگو ہوئی۔ میں نے
‹ Previous page Next page › Contents of December 1992 All issues