S. Arabia cuts off oil supply to Jordan
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۲، صفحہ ۴۶
مسلمانوں کی اکثریت نے جارحیت کے مسئلہ کو نظر انداز کیا۔ وہ صرف یہ کہتی رہی کہ سعودی عرب نے کیوں امریکہ کو بلایا اور امریکہ کی فوجیں کیوں خلیج میں داخل ہوگئیں۔ چنانچہ موجودہ موتمر میں آنے والے لوگوں کی بیشتر تعداد کی سوچ یہی تھی ۔
یہ معاملہ موجودہ مسلمانوں کی ایک کمزوری کو بتاتا ہے۔ موجودہ مسلمان ہر معاملہ میں بغض معاویہ کی نفسیات کے تحت سوچتے ہیں ۔ وہ " حب علی " کی نفسیات کے تحت سوچنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے زعماء ، ان کے اخبارات ، ان کے جلسے ، صبح وشام صرف ایک بات کا اعلان کرنے میں مصروف ہیں ۔ اور وہ " اعداء اسلام " کا مسئلہ ہے۔ ہر لکھنے اور بولنے والا صرف یہ خبر دے رہا ہے کہ اسلام دشمنوں نے ہمارے اوپر حملہ کر رکھا ہے اور ہمیں ان کے خلاف اٹھنا چاہئے۔
اس قسم کی باتوں نے مسلمانوں کے اندر مستقل طور پر بغض معاویہ کی نفسیات پیدا کر رکھی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہر معاملہ میں ان کا طرز فکر منفی طرز فکر ہوتا ہے۔ اسی طرزفکر کا ایک مظاہرہ خلیج کے بحران کے سلسلہ میں ہوا ہے۔ مسلمان اگر معتدل نفسیات میں جی رہے ہوتے تو وہ اس معاملہ میں صدام حسین کی جارحیت کو سب سے زیادہ قابل مذمت چیز سمجھتے۔ مگر ان کی غیر معتدل نفسیات کا یہ نتیجہ ظاہر ہوا ہے کہ ان کی ساری توجہ صرف " دشمن اسلام " امریکہ کی کارروائی کی طرف چلی گئی ، وہ صدام حسین کی خلاف حق کارروائی کو دیکھنے سے قاصر رہی۔
ایک تعلیم یافتہ عرب سے اس حدیث پر گفتگو ہوئی جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ لا الہ الا اللہ کے قول سے اپنے ایمان کی تجدید کرو (جددوا ایمانکم بقول لا الہ الا اللہ ، میں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ تجدید کرو، یہ نہیں فرمایا ہے کہ تکرار کرو۔ یہاں جددوا کا لفظ تکرار کے معنی میں نہیں ہے بلکہ تقعیر کے معنی میں ہے ۔ لاالہ الا اللہ ایک حقیقت ہے ، بلکہ وہ سب سے بڑی حقیقت ہے ، اس کی کوئی حد نہیں۔ جب بھی آپ اس پر غور کریں تو آپ اس میں نئی بات پائیں گے ۔ پس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ توحید کی حقیقت میں غور کرو ، اس طرح تمہارا ایمان بڑھتا رہے گا: ان الرسول صلى الله عليه وسلم قال جدد واولم يقل كرروا ، فكلمة
‹ Previous page Next page › Contents of December 1992 All issues