Al-Risala · February 1992 · page 15

فکری قیادت

الرسالہ، فروری ۱۹۹۲، صفحہ ۱۵

فکری قیادت

ہم بحران کے ایک دور سے گزر رہے ہیں۔ اقتصادی بحران ، سیاسی بحران، عسکری بحران۔ مگر ان سب سے زیادہ بڑا بحران وہ ہے جس کو فکری بحران (Intellectual Crisis) کہا جاسکتا ہے۔ آج کا انسان کسی ایسی فکری بنیاد سے محروم ہے جس پر وہ کھڑا ہوسکے، جس پر وہ اپنی زندگی کی بنیاد رکھے۔

قدیم دور توہم پرستی کا دور تھا۔ اس زمانہ میں انسان کے لئے یہ ممکن نہ تھا کہ وہ مفروضات اور توہمات پرجی سکے۔ آج کا زمانہ تعقل (reason) کا زمانہ ہے۔ آج انسان تعقل پر جینا چاہتا ہے۔ مگر جب انسان ایسا کرنا چاہتا ہے تو اس کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کے پاس جینے کے لئے کوئی عقلی بنیاد موجود ہی نہیں۔

دو چیزیں ہیں جو انسان کے لئے فکری بنیاد بن سکتی ہیں ــــــــ مذہب یا سائنس۔ یعنی الہامی علم یا سائنٹفک علم۔ مگر جدید انسان نے یہ دونوں ہی بنیادیں کھودی ہیں۔ قدیم ترین زمانہ سے انسان مذہب کو اپنے لئے فکری بنیاد بنائے ہوئے تھا۔ مگر موجودہ زمانہ میں جب مذہب کو عقل کی روشنی میں دیکھا گیا تو معلوم ہوا کہ یہ مذاہب عقل کے معیار پر پورے نہیں اترتے ۔ مثال کے طور پر بائبل کو لیجئے ۔ بائبل میں ایک طرف توحید کی آیت ہے : Hear, O Israel: The Lord our God is one Lord. (Deuteronomy 6:4)

اسی کے ساتھ بائبل کا عقیدہ رکھنے والے لوگ اسی بائبل سے تثلیث کو بھی نکالتے ہیں۔ اور اس کا ماخذ ان کے نزدیک نئے عہد نامہ کی یہ آیت ہے :

Go ye therefore, and teach all nations, baptizing them in the name of the father, and of the Son, and of the Holy Ghost. (Matthew 28:19)

یہ انسانی عقل کے لئے ایک ناقابل فہم بات ہے۔ کیونکہ خدا اگر ایک ہے تو وہ تین نہیں ہوسکتا۔ اور اگر

‹ Previous page Next page › Contents of February 1992 All issues

Printed page