Al-Risala · February 1992 · page 16

فکری قیادت

الرسالہ، فروری ۱۹۹۲، صفحہ ۱۶

خداتین ہے تو وہ ایک نہیں ہوسکتا۔

اسی طرح نئے عہد نامہ میں ایک جگہ یسوع مسیح کو خدا کا بیٹا (Son of God) کہا گیا ہے۔ مرقس (۱:۱) اور اسی کے ساتھ اس میں یسوع مسیح کو داؤد کا بیٹا (Son of David) لکھا گیا ہے (Matthew 1:1) اس قسم کے تضادات بائبل میں کثرت سے موجود ہیں۔ یہ مسئلہ ہمارے عقیدہ کے مطابق، خدا کے کلام میں انسانی آمیزش سے پیدا ہوا ہے جس کو تحریف کہا جاتا ہے۔ ان تحریفات نے بائبل کو جدید انسان کے لئے ناقابل قبول اور ناقابل فہم بنا دیا ہے۔ اب سائنس کے اعتبار سے لیجئے۔ جدید سائنس کے ظہور کے بعد انسان نے یہ سمجھا کہ وہ سائنس کی فکری بنیاد پر کھڑا ہو سکتا ہے۔ مگر سائنس کی ترقی انسان کو اطمینان نہ دے سکی۔ اس نے انسان کو صرف ذہنی بحران میں مبتلا کیا۔

سائنس نے جو کائنات دریافت کی ہے اس میں مکمل نظم ہے، مکمل ڈیزائن ہے۔ وہ ایک نہایت با معنی کائنات ہے۔ انسان کے بارہ میں کہا جاتا ہے کہ وہ تو جیہہ پسند حیوان ہے۔ چنانچہ وہ کائنات کی تو جیہہ کرنا چاہتا ہے۔ مگر جدید سائنس داں خدا کے بغیر کائنات کی تو جیہہ کرنا چاہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس کی توجیہہ کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہیں۔ یہی وہ احساس ہے جس کا اظہار شروڈنگر اور دوسرے سائنس دانوں نے ان الفاظ میں کیا کہ فطرت کے بارہ میں سب سے زیادہ ناقابل فہم بات یہ ہے کہ وہ قابل فہم ہے:

.....there are aspects which are extremely difficult to understand. A famous remark of Einstein — and other people have said similar things, Schroding- ger in particular — that the most comprehensible thing about nature is that it is comprehensible. جدید انسان کی یہی وہ صورت حال ہے جس کو میں نے فکری بحران کہا ہے۔ آج کا انسان بہت بڑے پیمانہ پر اپنے آپ کو اس فکری بحران میں گھرا ہوا پاتا ہے، وہ اپنے لئے ایک فکری بنیاد حاصل کرنے کے لئے مذاہب کی طرف دیکھتا ہے۔ مگر مذاہب (تحریف کی بنا پر ) اس کے عقلی معیار پر پورے اترتے نظر نہیں آتے۔ اس کے بعد وہ سائنس کی طرف دیکھتا ہے مگر سائنس بھی اسے ذہنی اطمینان عطا نہیں کرتی۔ اس فکری بحران کا حل صرف ایک ہے اور وہ غیر محرف مذہب ہے جس کو اسلام کہا جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1992 All issues

Printed page