Al-Risala · February 1992 · page 29

امید کا پیغام

الرسالہ، فروری ۱۹۹۲، صفحہ ۲۹

امید کا پیغام

قرآن میں بعض انسانی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ طرح کی ناموافق صورت پیش آئے تو صبر اور توکل کا انداز اختیار کرو۔ اللہ تمہارا نگہبان ہے ، وہ تمہارے لیے مشکل کے بعد آسانی پیدا کر دے گا (سیجعل الله بعد عسر یسرا) الطلاق ، جس طرح ہماری زمین مسلسل گردش کر رہی ہے ، اسی طرح انسان کے حالات بھی برابر بدلتے رہتے ہیں۔ انسان کو چاہیے کہ وہ کسی بھی حال میں مایوس نہ ہو، وہ ہمیشہ نا امیدی پر امید کے پہلو کو غالب رکھے۔ حال کی بنیاد پر وہ کبھی مستقبل کے بارہ میں اپنے یقین کو نہ کھوئے۔ رات کے آنے کو اگر ” آج “ کے لحاظ سے دیکھا جائے تو وہ اندھیرے کا آنا معلوم ہوگا مگر ”کل“ کے لحاظ سے دیکھے تو وہ روشن صبح کے آنے کی تمہید بن جاتا ہے۔ خزاں اس کا موسم بظاہر پت جھڑ کا موسم دکھائی دیتا ہے مگر مستقبل کی نظر سے دیکھے تو وہ بہار کے سرسبز و شاداب موسم کی خبر دینے لگے گا۔ یہ قدرت کا اٹل قانون ہے۔ یہ قانون عام مادی دنیا کے لیے بھی ہے ، اور اسی طرح انسانوں کی زندہ دنیا کے لیے بھی۔ اس میں کبھی کوئی تبدیلی ہونے والی نہیں۔

جب دنیا کی تخلیق اس ڈھنگ پر ہوئی ہے تو کوئی انسان اس دنیا میں مایوس کیوں ہو۔ جب یہاں ہر تاریکی آخر کار روشنی بننے والی ہے تو وقتی حالات سے گھبرانے کی کیا ضرورت۔ آدمی اگر یہاں کسی مشکل میں پھنس جائے تو اس کو چاہیے کہ وہ صبر اور حکمت کے ساتھ اس سے نکلنے کی جد و جہد کرے۔ اگر بالفرض اس کے پاس جد و جہد کرنے کی طاقت نہ ہو تب بھی اس کو چاہیے کہ وہ خدا پر بھروسہ کرتے ہوئے آنے والے کل کا انتظار کرے۔

اس دنیا میں جس طرح محنت ایک عمل ہے ، اسی طرح انتظار بھی ایک عمل ہے۔ جو شخص عمل کا ثبوت نہ دے سکے ، اس کو چاہیے کہ وہ انتظار کا ثبوت دے۔ اگر اس نے سچا انتظار کیا تو عین ممکن ہے کہ وہ انتظار کے ذریعہ بھی اسی چیز کو پالے جس کو دوسرے لوگ محنت کے راستہ سے تلاش کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ قدرت کا نظام خود اپنے آخری فیصلہ کو ظہور میں لانے کے لیے سرگرم ہے ، بشرطیکہ آدمی مقررہ وقت تک اس کا انتظار کر سکے۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1992 All issues

Printed page