Al-Risala · February 1992 · page 28

خلاصه

الرسالہ، فروری ۱۹۹۲، صفحہ ۲۸

جڑیں اکھڑ گئیں۔ برطانیہ کو اپنے زیر قبضہ علاقوں کو چھوڑ دینا پڑا۔

اس کے برعکس اشتراکی ایمپائر کے خاتمہ کا بنیادی سبب داخلی ہے۔ اجتماعی ملکیت کے غیرفطری نظام کا نتیجہ یہ ہوا کہ پورے علاقہ میں اشیاء صرف کی بھیانک قلت ہوگئی۔ ٹائم میگزین (۳۰ دسمبر ۱۹۹۱) نے صفحہ ۱۲ پر ماسکو کے ایک بڑے اسٹور کی تصویر چھاپی ہے ۔ پورا اسٹور خالی پڑا ہوا ہے۔ اس کے ایک کنارے صرف دو قمیصیں ہینگر پر لٹکی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔ میں نے جولائی ۱۹۹۰ میں سوویت یونین کا سفر کیا تھا۔ اس وقت میں نے دیکھا کہ سڑکوں پر لمبی لمبی قطاریں صرف روٹی حاصل کرنے کے لیے لگی ہوئی ہیں۔ اس میں بھی صرف آگے کے کچھ لوگوں کو روٹی ملتی تھی اور اس کے بعد یہ کہہ کر کھڑکی بند کر دی جاتی تھی کہ روٹی ختم ہوگئی۔ اس کے نتیجہ میں اشتراکی روس میں نئے قسم کے فسادات شروع ہو گئے جن کو غذائی فساد (food riots) کہا جاتا ہے۔ اشتراکی ایمپائر کا انہدام بنیادی طور پر اس لیے پیش آیا کہ سامان حیات سے محرومی نے عوام کو اس کا مخالف بنا دیا تھا۔

برٹش ایمپائر اور اشتراکی ایمپائر کے اس تقابل سے ایک نہایت اہم سبق ملتا ہے۔ وہ یہ کہ خارجی خطرہ کسی قوم کے وجود کے لیے جتنا سنگین ہے ، اتنا ہی داخلی خطرہ بھی اس کے وجود کے لیے سنگین ہے۔ بلکہ داخلی خطرہ زیادہ سخت ہے۔ کیوں کہ خارجی خطرہ کسی مملکت کو صرف جزئی طور پر نقصان پہنچاتا ہے ، جب کہ داخلی خطرہ مکمل طور پر اس کو منہدم کر دیتا ہے۔

خلاصه

مارکسی اشتراکیت کے انہدام سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ کوئی دشمن مذہب یا دشمنِ اسلام، خواہ وہ کتنا ہی زیادہ طاقت ور ہو، وہ دینِ حق کو کوئی حقیقی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ دینِ حق کی جڑیں فطرت کے نظام میں اتنی گہری ہیں کہ کسی انسانی طاقت کے لیے یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ اس کو کوئی ناقابل تلافی نقصان پہنچا سکے ۔ اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ ہم کو اپنی ساری توجہ ملت کے داخلی استحکام پر صرف کرنا چاہیے۔ داخلی استحکام کی موجودگی میں ہر خارجی طوفان بے اثر رہتا ہے۔ اور جب داخلی استحکام باقی نہ رہے تو اس کے بعد کوئی بھی چیز ملت کو زوال کے انجام سے نہیں بچا سکتی۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1992 All issues

Printed page