سفر نامہ امریکہ ۔ ۴
الرسالہ، فروری ۱۹۹۲، صفحہ ۳۱
سفر نامہ امریکہ ۔ ۴
۵ دسمبر کی صبح کو میں نمازِ فجر کے بعد مسجد سے رہائش گاہ کی طرف آ رہا تھا۔ ایک کراسنگ پر انھوں نے اپنی گاڑی روک دی۔ حالاں کہ سامنے ہری بتی جل رہی تھی۔ دوسری طرف سامنے کی سڑک سے ایک اور بڑی گاڑی آئی، وہ رکے بغیر گزر گئی۔ حالاں کہ وہاں لال بتی جل رہی تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ دوسری گاڑی ایمبولینس کی گاڑی تھی۔ وہ خاص الا رم بجاتے ہوئے جا رہی تھی۔ ایمبولینس یا فائر بریگیڈ کی گاڑی جب کسی راستہ سے گزرے تو ہمیشہ ایسا ہی کیا جاتا ہیں۔ وہ مسلسل اپنی منزل کی طرف چلتی رہتی ہے خواہ وہاں لال بتی ہو ۔ اور دوسری گاڑیاں کھڑی ہو جاتی ہیں خواہ ان کے سامنے ہری بتی جل رہی ہو۔ جب کہیں ایمرجنسی پیش آجائے تو تمام سرگرمیوں کو روک کر ایمرجنسی کی طرف دوڑنا پڑتا ہے۔ یہ حیاتِ دنیا کا قانون ہے۔ یہی معاملہ مزید شدت کے ساتھ آخرت کے لئے ہے۔ جب لوگ ہدایت سے دور ہو جائیں اور حیاتِ آخرت کے اعتبار سے لوگوں کے لئے نقصان کا اندیشہ ہو تو تمام دوسری سرگرمیوں کو روک کر لوگوں کو ہدایت کا پیغام پہنچایا جائے گا۔ اور یہ عمل اس وقت تک جاری رہے گا جب تک لوگ ہدایت کے راستہ پر نہ آجائیں۔ لاس اینجلیز کی کانفرنس ۴م ۔ ۲۵ نومبر میں امام عزت اللہ المجد دی سے ملاقات ہوئی۔ وہ افغانی لیڈر پروفیسر صبغت اللہ المجددی کے بھائی ہیں۔ نہایت ذہین آدمی ہیں اور کئی زبانیں جانتے ہیں۔ وہ جہاد افغانستان میں زخمی ہو گئے تھے۔ علاج کے بعد اب اچھے ہیں ۔ افغانی قوم ایک نہایت جاندار قوم ہے۔ اس کے اندر غیر معمولی صلاحیت ہے۔ مگر سیکڑوں سال سے یہ صلاحیت جنگ وقتال کی راہ میں لگی ہوئی ہے۔ اس سے افغانی قوم کی بہادری کی مثالیں تو ضرور قائم ہوئی ہیں ۔ مگر اس کا دوسرا نقصان یہ ہوا کہ افغانستان اپنے سارے امکانات کے باوجود کسی بھی اعتبار سے ترقی یافتہ ملک نہ بن سکا۔
پچھلی صدی میں افغانیوں نے انگریزوں کا سیاسی غلبہ اپنے ملک میں ہونے نہیں دیا۔ موجودہ صدی میں انھوں نے روسیوں سے لڑ کر انھیں ملک سے نکلنے پر مجبور کر دیا۔ مگر اسلامی نقطہ نظر سے اس کو کوئی بڑا کارنامہ نہیں سمجھتا۔ اسلامی اعتبار سے ان کے لئے زیادہ
‹ Previous page Next page › Contents of February 1992 All issues