Al-Risala · February 1992 · page 32

سفر نامہ امریکہ ۔ ۴

الرسالہ، فروری ۱۹۹۲، صفحہ ۳۲

بڑا کارنامہ یہ تھا کہ وہ دنیا سے شرک اور الحاد کا خاتمہ کرتے۔ مگر افغانی لیڈروں نے افغانی قوم کو اس راہ پر کبھی نہیں لگایا۔

کانفرنس میں سے لوگوں سے ملاقاتیں ہوئیں ۔ ان میں سے ایک ڈاکٹر عاقل خاں راجپوت تھے ۔ وہ امریکہ کے محکمہ میزائل (Missile Weapon's Systems) میں ایک بڑے عہدہ پر ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ وہ الور کے ایک گاؤں مونڈ اور میں پیدا ہوئے ۔ ۱۹۴۷ء کے ہنگامہ میں وہ پاکستان چلے گئے ۔ اس کے بعد امریکہ آکر سائنسی تعلیم حاصل کی اور ترقی کرتے ہوئے موجودہ عہدہ پر پہنچے۔

۱۹۴۷ میں بے بسی کے عالم میں کوئی شخص ان کو الور سے بھاگتے ہوئے دیکھتا تو وہ ان کے معاملہ کو صرف ظالم اور مظلوم کا ایک معاملہ سمجھتا۔ مگر ۱۹۴۷ کا مظلوم نوجوان ۱۹۹۰ کا ہیرو انسان ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مشکل حالات آدمی کے لئے زحمت کے بھیس میں رحمت (blessing in disguise) کے ہم معنی ہیں۔ مشکل حالات آدمی کے اندر چھپی ہوئی صلاحیتوں کو جگاتے ہیں۔ اور کسی آدمی کی کامیابی کا سب سے بڑا راز یہ ہے کہ اس کے اندر چھپی ہوئی صلاحیتیں جاگ اٹھتی ہوں ۔

صغیر اسلم صاحب کے یہاں ۲۲ نومبر کو ایک سفید فام امریکی نوجوان لینی (Lenney) بطور کاریگر کام کرنے کے لئے آیا۔ وہ خوش پوش اور صحت مند تھا۔ کار پر بیٹھ کر آیا تھا۔ میرا ابتدائی تاثر یہ تھا کہ یہاں کے مزدور اور کاریگر بہت اچھی حالت میں ہیں ۔ اگلے دن ۲۳ دسمبر کو امریکی عیسائیوں کا خصوصی تہوار تھینکس گو بنگ (Thanksgiving) تھا۔ اس لئے اس نے ۲۴ نومبر کو چھٹی کر لی ۔ دوپہر کو صغیر اسلم صاحب کے پاس اس کا ٹیلیفون آیا کہ میرے پاس پیسہ نہیں ہے ، اس لئے کل کی مزدوری مجھے پیشگی دے دو۔ اس کے بعد وہ اپنی گاڑی پر آیا اور ۱۰ ڈالر پیشگی لے کر چلا گیا ۔

یہ چھوٹا سا واقعہ عام امریکیوں کے مزاج کو بہت بتاتا ہے ۔ عام امریکی بے پناہ خرچ کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے پاس پیسہ باقی نہیں رہتا۔ اکثر اوقات وہ مقروض رہتے ہیں۔ مزید یہ کہ بظاہر خوش پوشاک اور خوش و خرم آدمی اندر سے غیر مطمئن ہوتا ہے۔ حقیقی

‹ Previous page Next page › Contents of February 1992 All issues

Printed page