Lock it or loose it.
الرسالہ، فروری ۱۹۹۲، صفحہ ۴۱
قائم نہیں ہے ۔ ان حضرات کے نزدیک سب سے پہلا اسلامی کام یہ ہے کہ خلافت کا قیام عمل میں لایا جائے ۔
اس میں ان لوگوں پر تنقید کی گئی ہے جو ” اصلاح افراد" کی بات کرتے ہیں۔ اس میں کہ اگیا ہے کہ مجتمع کی اصلاح افراد کی اصلاح سے نہیں ہوتی بلکہ مجتمع کی اصلاح اس کے نظام کی اصلاح سے ہوتی ہے (ان اصلاح المجتمع لا يكون باصلاح افراده بل ان اصلاح المجتمع انما يكون باصلاح انظمته )
یہ مارکسی طرز فکر کو اسلام میں داخل کرنا ہے جس کو قرآن میں مضاهاة کہا گیا ہے۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے تمام انقلابی مفکرین اسی مضاهاة کا شکار ہوئے ہیں۔ مگر اسلام کے نزدیک اصل اہمیت فرد کی ہے۔ فرد کے اندر توحید اور آخرت کا شعور پیدا کرنا ، یہی اصل اسلامی کام ہے ۔ بقیہ تمام چیزوں کی حیثیت ثانوی ہے ۔
ورلڈ کونسل آف چرچز کے نام سے جنیوا میں ایک ادارہ قائم ہے۔ فروری ۱۹۹۱ میں اس کا ایک بڑا اجلاس آسٹریلیا میں ہونے والا ہے۔ اس میں ڈاکٹر مزمل حسین صدیقی کو خصوصی دعوت نامہ ملا ہے۔ میں نے دعوت نامہ کو دیکھا ۔ اس میں اس کی ایک تقسیم یہ بتائی گئی تھی جو میرے نزدیک نہایت درست تھی :
The creation and perception of enemy images are among the ideological and psychological roots of militarism. Alfred Armand Montapert امریکہ کے ایک بہت بڑے تاجر ہیں۔ ان کا نام (مونٹاپرٹ) ہے ۔ انھوں نے لاس اینجلس میں ۱۲ سال کی عمر میں ایک مزدور کی حیثیت سے کام شروع کیا۔ مگر ان کی حوصلہ مند طبیعت زندگی میں اوسط کامیابی (average success) پر راضی نہیں ہوئی ۔ اس کے بعد انھوں نے تعلیم شروع کرکے الکٹريكیل انجینئر کی ڈگری لی۔ اس کے بعد وہ صنعت میں داخل ہوئے اور نصف درجن سے زیادہ بڑی کمپنیاں بنائیں۔ ہر آدمی کے اندر اعلیٰ ترین کامیابی حاصل کرنے کا بے پناہ جذبہ چھپا ہوا ہے۔ مگر خوش قسمت وہ ہے جس کو اللہ یہ توفیق دے کہ وہ دنیا میں "اوسط کامیابی" پر راضی ہوکر اپنے اعلیٰ
‹ Previous page Next page › Contents of February 1992 All issues