Al-Risala · February 1992 · page 40

Lock it or loose it.

الرسالہ، فروری ۱۹۹۲، صفحہ ۴۰

لوگ اللہ کی معرفت حاصل کریں۔ لوگ آخرت کی حقیقت کو محسوس کرنے والے بن جائیں۔ لوگ اسلام کی صداقت پر یقین کرنے والے بن جائیں۔ یہی جڑ کا کام ہے۔ جو لوگ اس معنی میں اسلام کو پالیں، وہ آخرت میں خدا کی ابدی رحمتوں کے مستحق ٹھہریں گے۔ اور اگر اس قسم کے انسانوں کی بڑی تعداد کسی مقام پر پیدا ہو جائے تو اس کے بعد ان کے درمیان وہ چیز بھی وجود میں آ جاتی ہے جس کو اسلامی حکومت کہا جاتا ہے۔

یہاں یونیورسٹیوں اور لائبریریوں وغیرہ کے اندر پار کنگ لاٹ ہیں ۔ اس کے مطابق ، ہر طبقہ کا آدمی اپنی اپنی مختص کی ہوئی لاٹ میں گاڑی کھڑی کرتا ہے۔ لاٹ کے گیٹ کمپیوٹرائزڈ ہوتے ہیں۔ ان کے اندر مطلوبہ کارڈ ڈالنے ہی سے وہ دروازے کھلتے ہیں۔ ایک لائبریری میں ایک جگہ جنگلہ سا نظر آیا۔ یہاں سائیکل کھڑے کرنے کی جگہ بنی ہوئی تھی۔ غالباً دس سائیکلوں کی جگہ ہوگی ، مگر صرف دو سائیکلیں وہاں کھڑی ہوئی تھیں۔ البتہ وہاں لکھے ہوئے یہ الفاظ بہت قابل توجہ تھے ۔ اس کو تالا لگاؤ یا اس کے کھونے کا انتظار کرو :

Lock it or loose it.

میں نے سوچا کہ یہ مسئلہ صرف سائیکل کا نہیں بلکہ خود سائیکل سوار کا بھی ہے۔ آدمی کو خود بھی یہی کرنا ہے کہ وہ اپنے آپ پر تالا لگائے ، اپنے آپ کو حد سے باہر جانے سے روکے ۔ ورنہ وہ اپنے آپ کو کھو دے گا۔ بے تالے کی سائیکل کو چور لے جاتا ہے اور بے تالے کے آدمی کو شیطان۔

ایک عرب سے ملاقات ہوئی۔ وہ حزب التحریر سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ حزب ۱۹۵۳ ء میں عرب میں قائم ہوئی تھی۔ اس کے موسس الشیخ نبھانی ہیں۔ مگر عرب ملکوں میں ہر جگہ ان پر پابندی ہے۔ اس لئے یہ لوگ آجکل امریکہ اور دوسرے مغربی ملکوں میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

انھوں نے ۱۱۲ صفحات پر مشتمل ایک کتاب دی۔ اس عربی کتاب (حزب التحریر) میں اس تحریک کا تعارف درج تھا۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ کافر حکومتوں کے غلبہ ونفوذ (سيطرة الدول الكافرة ونفوذها) کا سبب یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں "خلافت کا ادارہ

‹ Previous page Next page › Contents of February 1992 All issues

Printed page