روزہ کیا ہے
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۳، صفحہ ۷
اسی طرح آدمی کے اندر طرح طرح کے جذبات ہیں۔ مثلاً حرص، طمع، حسد، گھمنڈ، فخر، خود غرضی وغیرہ۔ یہ جذبات بجائے خود برے نہیں ہیں۔ کیوں کہ یہی جذبات ہیں جو آدمی کے اندر حرکت و عمل پیدا کرتے ہیں۔ ان جذبات کو اگر جائز حدود کے اندر استعمال کیا جائے تو وہ مفید ہیں۔ اور جائز حدود کی پروا کیے بغیر ان جذبات کو بے قید طور پر استعمال کیا جانے لگے تو وہ سماج کے لیے مصیبت بن جاتے ہیں۔
روزہ اس بات کی تربیت ہے کہ آدمی ان جذبات کو ان کی حد کے اندر رکھے ۔ وہ اپنے جذبات کو ان کی واقعی حد کے اندر استعمال کرے۔ وہ اپنے ان جذبات کے استعمال کی ایک مقرر کرے۔ وہ حد یہ ہے کہ یہ جذبات جب تک اپنے جائز مفاد کے لیے استعمال ہوں تو ان کا استعمال ٹھیک ہے۔ اور جب وہ اپنے جائز مفاد سے گزر کر دوسروں کو نقصان پہنچانے والے بن جائیں تو وہاں آدمی اپنے ان جذبات کو روک لے۔
روزہ کو حدیث میں صبر کا مہینہ کہا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ روزہ پابند زندگی گزارنے کی مشق ہے۔ روزہ آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ اس دنیا میں با اصول زندگی گزارے۔ بے قید اور بے اصول زندگی گزارنے سے پرہیز کرے۔ رمضان کے مہینہ میں تربیتی روزہ رہتا ہے اور بقیہ مہینوں میں اسی تربیت کے مطابق زندگی گزارنا۔
حدیث میں آیا ہے کہ جو شخص روزہ رکھ کر کھانا اور پینا چھوڑ دے مگر وہ جھوٹ بولنا اور جھوٹ بول کر نہ چھوڑے تو اللہ کو اس کی حاجت نہیں کہ وہ اپنا کھانا اور پینا چھوڑ دے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ روزہ کا ظاہر تو کھانا اور پینا چھوڑنا ہے۔ مگر روزہ کی اصل روح یہ ہے کہ آدمی جھوٹی باتوں کو اور دوسرے برے اعمال کو چھوڑ دے۔ روزہ در اصل برائیوں کو چھوڑنے کی تربیت ہے۔ کسی روزہ دار میں اگر روزہ کا ظاہری پہلو ہو مگر اس میں روزہ کا اندرونی اور اخلاقی پہلو نہ پایا جائے تو ایسے آدمی کا روزہ اسلام میں معتبر نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1993 All issues