Al-Risala · March 1993 · page 8

سفر حيات

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۳، صفحہ ۸

سفر حيات

جیومیٹری کے اصولوں میں سے ایک مشہور اصول یہ ہے کہ ۔ ۔۔۔۔ دو نقطوں کے درمیان قریب ترین فاصلہ سیدھی لکیر کا ہوتا ہے :

A straight line is the shortest distance between two points. یہ بات روشنی کے سفر کے لیے نہایت درست ہے۔ کیونکہ تجربہ بتاتا ہے کہ روشنی ہمیشہ خطِ مستقیم (سیدھی لکیر) کے اصول پر سفر کرتی ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص اس اصول کو انسانی زندگی کے سفر کے لیے استعمال کرنے لگے تو اس کا سفر صرف بھٹکاؤ کے ہم معنی بن کر رہ جائے گا۔ اگر آپ اپنے گھر سے نکلیں اور یہ چاہیں کہ آخری منزل تک بالکل خطِ مستقیم پر سفر کریں تو ایسا کرنے کی صورت میں کہیں آپ کسی کھڈ میں جاگریں گے۔ کہیں کسی پہاڑ سے ٹکرا جائیں گے۔ کہیں دریا کی موجیں آپ کے سفر کو موت کا سفر بنا دیں گی۔ اس لیے کوئی کبھی آنکھ والا آدمی ایسا نہیں کرتا کہ وہ خطِ مستقیم کے اصول پر اپنا سفر جاری کر دے۔ ہر آنکھ والا آدمی مقاماتِ سفر کی رعایت سے اپنے سفر کا رخ متعین کرتا ہے۔ وہ جیومیٹری کے اصول کے تحت بھی اپنے سفر کا راستہ نہیں بناتا۔

موجودہ زمانہ میں مسلمان ساری دنیا میں مفروضہ اعداءِ اسلام کے خلاف جنگ چھیڑے ہوئے ہیں۔ وہ اپنے سفر حیات کے لیے اٹھتے ہیں تو انھیں محسوس ہوتا ہے کہ ان کے راستے میں دریا اور پہاڑ کی مانند کچھ قومیں حائل ہیں۔ وہ فورا اُن قوموں کے خلاف جہاد کا اعلان کر دیتے ہیں یہ طریقہ جو موجودہ زمانہ کے مسلمان ساری دنیا میں اختیار کیے ہوئے ہیں ، وہ گویا خطِ مستقیم میں سفر کرنے کی کوشش ہے۔ مگر ایسی کوشش کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی۔ اس قسم کی سرگرمیاں صرف موت کی سرگرمیاں ہیں۔ وہ ہرگز زندگی کی سرگرمیاں نہیں۔

زندگی کا سفر جیومیٹری کے اصول پر طے نہیں ہوتا۔ وہ حالات کی موافقت اور ناموافقت کو دیکھ کر طے کیا جاتا ہے۔ سفر حیات کا حقیقت پسندانہ منصوبہ وہی ہے اور وہی منصوبہ اس دنیا میں کامیاب ہوتا ہے جس میں خارجی حالات کی پوری رعایت شامل ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1993 All issues

Printed page