Al-Risala · March 1993 · page 10

ایک رپورٹ

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۳، صفحہ ۱۰

ایک رپورٹ

مسیحی چرچ نے عالمی سطح پر ایک مذہبی جائزہ لیا ہے۔ اس کا خلاصہ انگریزی میگزین کرسچینٹی ٹوڈے نے شائع کیا ہے۔ اس نے بتایا ہے کہ ۱۹۳۴ء سے اب تک اسلام میں ۵۰۰ فی صد کی رفتار سے اضافہ ہوا ہے۔ جبکہ اسی مدت میں مسیحیت میں صرف ۴۷ فی صد کا اضافہ ہوا ہے وہنوں میں سے ہر ایک مذہب کے ماننے والوں کی تعداد اس وقت ساری دنیا میں ایک بلین ہے۔ ہندو ازم کو ماننے والوں کی تعداد ۵۰۰ ملین ہے۔ بدھزم کو ماننے والوں کی تعداد ۲۴۵ ملین ہے اور یہودیت کو ماننے والوں کی تعداد ۱۵ ملین :

Christianity Today magazine (March 1992) reported that since 1934, Islam has grown by 500 per cent and Christianity by 47 per cent. Both religions have about a billion followers, followed by Hinduism with 500 million followers, Buddhism with 245 million followers and Judaism with about 15 million followers. اس جائزہ کے مطابق ، ۶۰ سال پہلے، اسلام کے ماننے والوں کے مقابلہ میں مسیحیت کو ماننے والوں کی تعداد کافی زیادہ تھی۔ مگر آج دونوں مذہب کو ماننے والوں کی تعداد تقریباً یکساں ہو چکی ہے۔ یہ رفتار اگر اسی طرح جاری رہتی ہے تو اکیسویں صدی کی آمد تک اہلِ اسلام کی تعداد یقینی طور پر تمام مذاہب کے ماننے والوں کی تعداد سے زیادہ ہو جائے گی۔ تا ہم صرف تعداد کا اضافہ خوش ہونے کے لیے کافی نہیں۔ اسی کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ اس بڑھتی ہوئی تعداد کی تعلیم و تربیت کا انتظام کیا جائے ۔ موجودہ زمانہ میں مسلمان ہر جگہ تعلیم میں پیچھے ہیں۔ علی گڑھ (ہندوستان) میں مسلم کالج سو برس پہلے قائم ہوا جو بعد کو مسلم یونی ورسٹی بن گیا۔ مسلمان فخر کے ساتھ کہتے ہیں کہ مسلم یونی ورسٹی صرف ایک ادارہ نہیں، دو ایک عظیم تحریک ہے۔ مگر ایک حالیہ جائزہ سے معلوم ہوا ہے کہ علی گڑھ ضلع کے دیہاتوں میں آج بھی صرف دو فی صد مسلمان ایسے ہیں جن کو تعلیم یافتہ کہا جاسکتا ہے (ایسٹمینین ۱۲ اپریل (۱۹۹۲ کتنا زیادہ کام ہو چکا۔ اس کے باوجود کتنا زیادہ کام کرنا ابھی باقی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1993 All issues

Printed page