ذکر وفکر
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۳، صفحہ ۱۱
ذکر وفکر
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ کی یاد سب سے بڑی چیز ہے (ولذكر الله أكبر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک گھڑی کا سوچنا ایک سال کی عبادت سے بہتر ہے (تفكر ساعة خير من عبادة سنة)
ذکر و فکر سے متعلق جو آیتیں اور حدیثیں ہیں، ان کا ایک مطلب خالص روحانی ہے۔ یعنی اللہ کی صفتوں کو یاد کرنا اور ان سے ان جذبات و کیفیات کا دل میں پیدا ہونا جن کو قرآن میں خشوع، تضرع، انابت، انابت وغیرہ الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ یہ کیفیت دین کا اصل مطلوب ہے اور یہی خود عبادت کا بھی خلاصہ ہے۔
ان آیتوں اور حدیثوں سے ایک اور بہت اہم بات معلوم ہوتی ہے۔ یہ علم کی فوقیت ہے ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جسمانی عمل (physical activity) کے مقابلہ میں ذہنی عمل (mental activity) کی اہمیت زیادہ ہے۔ جسم کی حرکت سے آدمی جو کام کرتا ہے، اس سے بہت زیادہ قیمت اس کام کی ہے جو وہ دماغ کی حرکت کے ذریعہ انجام دیتا ہے۔ ایک گھڑی کا دماغی کام ایک سال کے جسمانی کام کے برابر ہے۔
ایک مزدور بھی محنت کرتا ہے اور ایک انجینئر بھی۔ مگر مزدور کو جو معاوضہ دیا جاتا ہے، اس سے بہت زیادہ معاوضہ وہ ہے جو انجینئر کو ملتا ہے۔ اسی مثال سے جسم اور ذہن کے فرق کو سمجھا جا سکتا ہے۔
جسمانی محنت اگر ہتھوڑا چلاتی ہے تو دماغی محنت مشین چلاتی ہے۔ جسمانی محنت پاؤں سے سفر کرتی ہے تو دماغی محنت کار اور ہوائی جہاز کی رفتار سے سفر کرتی ہے۔ جسمانی محنت ظاہر کو جانتی ہے تو دماغی محنت حقیقت کا پتہ کر لیتی ہے۔ جسمانی محنت اگر تلوار سے لڑتی ہے تو دماغی محنت لڑائی کیے بغیر جنگ جیت لیتی ہے۔ جسمانی محنت اگر آدمی کو دکھائی دینے والی دنیا تک پہنچاتی ہے تو دماغی محنت کے ذریعہ آدمی غیب تک اور خدا کی چھپی ہوئی دنیا تک پہنچ جاتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1993 All issues