Al-Risala · March 1993 · page 12

ناگزیر مسئله

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۳، صفحہ ۱۲

ناگزیر مسئله

اینی برانٹ (Anne Bronte) ایک خاتون ادیب ہیں۔ وہ انگلینڈ میں ۱۸۲۰ میں پیدا ہوئیں اور ۱۸۴۹ میں ان کا انتقال ہوا۔ ان کی تحریروں میں حقیقت پسندی کا سبق ملتا ہے۔ ان کا ایک قول یہ ہے کہ اس غیر معیاری دنیا میں ہر چیز کے ساتھ ہمیشہ ایک مگر موجود رہتا ہے : There is always a ‘but’ in this imperfect world. یہ بلاشبہ ایک حکیمانہ قول ہے۔ موجودہ دنیا امتحان کے لیے بنائی گئی ہے۔ اس لیے یہاں معیار کی حالت کو پا نا ممکن نہیں۔ یہاں مختلف قسم کی محدودیتیں ہیں۔ یہاں ہر انسان کو قول وفعل آزادی حاصل ہے۔ یہاں بار بار مفادات کا ٹکراؤ ہوتا ہے۔ اس بنا پر یہاں کی کے لیے بھی ہموار زندگی کا حصول ممکن نہیں۔ یہاں آدمی کو ہمیشہ ایک ’’مگر‘‘ سے سابقہ پیش آتا ہے۔ اس لیے ضروری کہ آدمی اپنی کارروائیوں میں اس حقیقت کو سامنے رکھے۔ ورنہ وہ آخر کار ناکام ہو کر رہ جائے گا۔ آپ آزاد ہیں کہ اپنی گاڑی سڑک پر پوری تیز رفتاری کے ساتھ دوڑائیں۔ مگر آپ کو اس پر قدرت نہیں کہ دوسری سمت سے آنے والی گاڑیوں کو روک کر سڑک کو صرف اپنے لیے خالی کرلیں۔ آپ ایک ناپسندیدہ جلوس کو روکنے کے لیے اس سے الجھائو کر سکتے ہیں مگر آپ کے بس میں یہ نہیں کہ اس کے بعد مسلح پولیس کو مداخلت کرنے سے باز رکھیں۔ آپ اپنے ایک قونو اشو کے لیے جلسہ جلوس کا ہنگامہ کھڑا کر سکتے ہیں مگر آپ کے لیے یہ ناممکن ہے کہ آپ فریقِ ثانی کے اندر مخالفانہ ردِ عمل پیدا ہونے کو روک دیں۔ آپ اپنی حق تلفی کے نام پر احتجاج اور مطالبات کا طوفان برپا کر سکتے ہیں مگر آپ دنیا کے اس قانون کو نہیں بدل سکتے کہ آدمی کو اتنی ہی ملے جتنی استعداد اس نے اپنے اندر پیدا کی۔

اس دنیا میں ہر طرف ایک ’’مگر‘‘ کسی رکاوٹ کھڑی ہوئی ہے۔ اس رکاوٹ کو جانیئے اور اس کو ملحوظ رکھتے ہوئے اپنے عمل کا نقشہ بنائیے۔ اگر آپ نے اس کو نظر انداز کر کے اپنے عمل شروع کر دیا تو آخر کار تباہی کے سوا کوئی اور چیز آپ کے حصہ میں آنے والی نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1993 All issues

Printed page