Al-Risala · March 1993 · page 14

خواب منتشر ہو گیا

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۳، صفحہ ۱۴

خواب منتشر ہو گیا

سرسید نے ۳ فروری ۱۸۸۴ء کو لاہور میں ایک تقریر کی۔ اس تقریر میں انھوں نے کہا کہ ہم نے علی گڑھ میں جو تعلیمی ادارہ محمدن اینگلو اورینٹل کالج (موجودہ مسلم یونیورسٹی) قائم کیا ہے، اس کا مقصد یہ نہیں ہے کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان امتیاز قائم کیا جائے۔ میں ہندو اور مسلمان دونوں کو برابر کا درجہ دیتا ہوں۔ میں ہندوؤں کو اور مسلمانوں کو مثل اپنی دو آنکھ کے سمجھتا ہوں (لیکچروں کا مجموعہ، صفحہ ۱۹۸)

سوامی ویویکانند نے ۱۰ جون ۱۸۹۸ء کو اپنے ایک خط میں لکھا کہ ہند و ازم کا خلاصہ وحدت (oneness) ہے، اور اسلام کی خصوصیت یہ ہے کہ اس نے انسانی اخوت اور انسانی برابری کا ایسا پریکٹیکل نمونہ قائم کیا جیسا نمونہ انسانی تاریخ میں دوسرا کوئی موجود نہیں۔ دونوں کو انڈیا کی تعمیر میں اپنا حصہ ادا کرنا ہے۔ انڈیا میں ایک اچھے مستقبل کی تعمیر ہندوؤں اور مسلمانوں کے اشتراک سے ہوگی (لیٹرز آف سوامی ویویکانند، صفحہ ۸۰-۴۷۹)

۱۹۴۷ء میں ہندوستان آزاد ہوا۔ اب موقع تھا کہ دونوں گروہ مل کر نئے ہندوستان کی تعمیر کریں۔ دونوں فرقوں کے دو اعلیٰ رہنماؤں (اور اسی طرح دوسرے لیڈروں) نے بھرپور طور پر لوگوں کو اس ضرورت کی طرف متوجہ کیا۔ اس کے باوجود یہ مشورہ عملی صورت اختیار نہ کر سکا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر تجویز کی ایک قیمت ہے۔ اگر آپ یہ مطلوبہ قیمت ادا کریں تو تجویز واقعہ بنے گی۔ اور اگر قیمت ادا نہ کی جائے تو تجویز صرف الفاظ کا ایک مجموعہ بن کر رہ جائے گی، وہ عملی واقعہ کی صورت اختیار نہیں کر سکتی۔

یہ قیمت، ایک لفظ میں، صبر ہے۔ مختلف انسان جب باہم مل کر رہے ہوں تو لازماً ایک کو دوسرے سے شکایت ہوتی ہے۔ ایک کو دوسرے سے ناخوش گواری کا تجربہ ہوتا ہے۔ اب قیمت یہ ہے کہ اس شکایت یا اس ناگواری کو برداشت کر لیا جائے۔ بدقسمتی سے دونوں فرقوں میں سے کسی نے بھی یہ قیمت ادا نہ کی۔ اس لیے سرسید اور ویویکانند جیسے لوگوں کے الفاظ ہوا میں تحلیل ہو گئے ۔ وہ ملک کی سماجی زندگی کی تشکیل میں کامیاب نہ ہو سکے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1993 All issues

Printed page