Al-Risala · March 1993 · page 15

تعلیم و تربیت

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۳، صفحہ ۱۵

تعلیم و تربیت

اگست ۱۹۴۵ میں جاپان مکمل طور پر تباہ ہوگیا۔ اس نے سیاسی آزادی بھی کھودی اور معاشی استقلال بھی۔ اس کے بعد جاپان نے یہ کیا کہ سیاسی آزادی کے مسئلہ کو چھیڑے بغیر معاشی انتقال کے لیے جد و جہد شروع کر دی ، اس طریق کار کے ذریعہ جاپان نے اتنی کامیابی حاصل کی کہ آج وہ سپر اقتصادی طاقت شمار کیا جاتا ہے۔ ۱۹۹۰ تک جاپان دنیا کو ۵ کھرب ڈالر قرض کے طور پر دے چکا تھا۔ اندازہ ہے کہ ۱۹۹۵ تک جاپان کے عالمی قرضہ کی مقدار ۱۰ کھرب ڈالر ہو چکی ہوگی۔ جاپان ۱۹۴۵ میں امریکہ کا سیاسی محکوم تھا، آج جاپان نے خود امریکہ کو اپنا اقتصادی مقروض بنالیا ہے۔ پاکستان کے ایک کالم نویس مسٹر ابو ذر غفاری مئی ۱۹۹۲ میں کابل گئے۔ وہاں ان کی ملاقات ایک جاپانی صحافی سے ہوئی، انھوں نے جاپانی صحافی سے پوچھا کہ جاپان کی اس حیران کن ترقی کا راز کیا ہے۔ کس طرح ایسا ہوا کہ جاپان نے ایک ناممکن کو ممکن بنا دیا۔

جاپانی صحافی نے جواب دیا کہ جاپان کی اعلیٰ ترقی کا راز جاپانی قوم کے اعلیٰ کردار میں چھپا ہوا ہے۔ اس نے کہا کہ ہمارے پاس قدرتی وسائل نہیں۔ اس لیے ہم اپنے بچوں ہی کو اپنا سب سے بڑا سرمایہ سمجھتے ہیں۔ جاپان کا ایک ایک گھر گویا جاپانی بچہ کی تربیت گاہ ہے۔ جاپان کے لوگ اپنے بہترین وسائل اپنے بچہ کی تعلیم پر صرف کرتے ہیں۔ چنانچہ جاپانی قوم اس وقت مکمل طور پر ایک تعلیم یافتہ قوم ہے۔ ہمارے یہاں جہالت کا کوئی وجود نہیں ۔ جاپان میں اتنے زیادہ سائنسی تعلیم یافتہ لوگ ہیں کہ آپ جاپان کو ایک سائنسی قوم کہہ سکتے ہیں۔

اس تعلیم و تربیت نے جاپان کے لوگوں میں اعلیٰ ترین قومی کیریکٹر پیدا کر دیا ہے ، مثلاً جاپانی قوم انتہائی محب وطن قوم ہے۔ اگر قوم کا ایک روپیہ کا نقصان ہو رہا ہو تو ایک جاپانی اپنی قوم کو ایک روپیہ کے نقصان سے بچانے کے لیے اپنا سو روپیہ کا نقصان کروا لینے کو اپنے لیے ایک اعزاز سمجھے گا۔ (نوائے وقت ، لاہور ۱۲ جولائی ۱۹۹۲)

جاپان نے حریت سے ٹکراؤ کو چھوڑا۔ اس کے بعد ہی یہ ممکن ہوا کہ وہ اپنے یہاں اعلیٰ سائنسی معاشرہ وجود میں لا سکے۔ یہی دنیا میں ترقی اور کامیابی کا واحد راستہ ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1993 All issues

Printed page