Al-Risala · March 1993 · page 19

زلزلہ کی خبر

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۳، صفحہ ۱۹

زلزلہ کی خبر

۲۱ جون ۱۹۹۰ کو ایران کے شمال مغربی علاقہ میں نہایت شدید بھونچال آیا۔ اس کی وجہ سے اس علاقہ کے ۸۰ ہزار سے زیادہ آدمی مرگئے اور ۲۰۰ ہزار سے زیادہ آدمی زخمی ہوئے۔ اس خبر کو پڑھ کر ایک صاحب نے کہا : یہ ایرانیوں کے اوپر خدا کا عذاب ہے۔ یہ ایک لغو بات ہے۔ اس دنیا میں جو حادثہ بھی پیش آتا ہے وہ اس لیے پیش آتا ہے کہ خدا کے بندے خدا کے خوف سے کانپ اٹھیں ، نہ یہ کہ وہ اس کو لے کر دوسروں کے خلاف تبصرے کرنا شروع کر دیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس زلزلہ کا تعلق نہ ایران سے ہے اور نہ خدائی عذاب سے۔ وہ ایک زمینی واقعہ ہے، اور وہ اس لیے ہے کہ لوگ اس سے نصیحت قبول کریں۔ ایران کے لوگ بھی، اور ایران کے باہر کے لوگ بھی۔

ٹائمس آف انڈیا (۲۳ جون ۱۹۹۰) میں عالمی ایجنسیوں کے حوالے سے جو خبر دی گئی، اس میں بتایا گیا تھا کہ اس علاقہ میں ایک بھی مکان نہیں جو بھونچال کے بعد اپنی جگہ کھڑا ہوا ہو : There is not a single house in the area that has been left standing. یہی واقعہ ہر شدید زلزلہ کے بعد پیش آتا ہے۔ زلزلہ دراصل قیامت سے پہلے قیامت کی یاد دہانی ہے۔ وہ اس واقعہ کا چھوٹی سطح پر اظہار ہے جو قیامت کے دن زیادہ بڑی سطح پر پیش آئے گا۔

خدا نے اس دنیا کو عارضی امتحان کے لیے بنایا ہے۔ جب اس کی مدت ختم ہوگی تو خدا زمین کے اوپر شدید زلزلہ برپا کرے گا۔ اس کے نتیجہ میں انسان کی تمام تعمیرات ڈھ جائیں گی انسان کا سارا تمدن کھنڈر ہو جائے گا۔ انسانی اقتدار کے تمام قلعے کامل طور پر منہدم ہو جائیں گے۔ اس کے بعد خدا اپنی قدرت سے ایک نئی دنیا بنائے گا جہاں ہر ایک کو اس کے حقیقی عمل کے مطابق بدلہ دیا جائے گا۔ زلزلہ کی خبر پڑھنے والا وہ ہے جس نے زلزلہ میں خود اپنی خبر پڑھی ہو۔ جو شخص زلزلہ کو دوسروں کا واقعہ سمجھے، اس نے ابھی تک زلزلہ کی خبر کو نہیں پڑھا۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1993 All issues

Printed page