با مقصد تخلیق
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۳، صفحہ ۱۸
با مقصد تخلیق
یہ دنیا کیوں بنی۔ انسان کیوں یہاں پیدا ہوتا ہے۔ کس لیے وہ ایک خاص مدت کے بعد مر جاتا ہے۔ مرنے کے بعد کیا ہونے والا ہے ـــ یہ سب سے زیادہ اہم سوالات ہیں جن پر ہر انسان کی سوچنا چاہیے۔ ان سوالات کا صحیح جواب معلوم کرنا بلاشبہ انسان کو سب سے بڑی ضرورت ہے ۔
ہزاروں برس سے انسان ان سوالوں کے بارہ میں سوچتا رہا ہے۔ مختلف لوگوں نے اس کے مختلف جوابات دیے ہیں۔ تاہم بڑی تقسیم میں ان کو دو قسم میں بانٹا جا سکتا ہے۔ ایک وہ جوابات جن کے مطابق ، یہ سارا ہنگامہ عبث (المؤمنون (۱۱۵) اور بے مقصد ہے۔ اور دوسرا جواب وہ ہے جو یہ خبر دیتا ہے کہ انسان کی تخلیق کا ایک مقصد ہے اور اس کا ایک انجام سامنے آنے والا ہے۔
پہلا جواب شاعروں، فلسفیوں اور دنیوی عالموں نے دیا ہے۔ دوسرا جواب ان ہستیوں کا دیا ہوا ہے جن کو پیغمبر کہا جاتا ہے اور جس کا مستند ترین پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں پایا جاتا۔ ان دونوں قسم کے جوابوں کے تقابل میں بہت سی باتیں کہی جا سکتی ہیں۔ مگر ایک بات بالکل واضح ہے۔ وہ یہ ہے پہلا جواب زندگی اور کائنات کے ڈھانچہ میں مطابق نہیں بیٹھتا۔ جب کہ دوسرا جواب زندگی اور کائنات کے نقشہ میں پوری طرح فٹ ہو جاتا ہے۔ اس میں کوئی اندرونی تضاد نہیں پایا جاتا۔
یہ دنیا جس کے اندر انسان پیدا ہوتا ہے وہ انتہائی بامعنی ہے۔ یہاں کوئی چیز بے معنی اور الٹ پلٹ نظر نہیں آتی۔ اسی طرح انسان کا وجود بھی پوری طرح ایک بامعنی وجود ہے۔ اب یہ ناقابلِ قیاس ہے کہ ایک بامعنی انسان ایک انتہائی بامعنی کائنات میں پیدا کیا جائے مگر اس کا کوئی مقصد نہ ہو۔ واقعہ اور توجیہہ کے درمیان یہ تضاد خود یہ ثابت کرتا ہے کہ واقعہ کی یہ توجیہہ درست نہیں۔ جہاں معنویت ہو وہاں مقصدیت بھی ضرور ہوگی۔ معنویت کبھی مقصد کے بغیر پائی نہیں جاسکتی کائنات کا یہ پہلو پیغمبر کے جواب کی کھلی ہوئی تصدیق ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1993 All issues