لفظ کا فرق
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۳، صفحہ ۲۳
لغنية لولا انی سمعتُ النبی صلی اللہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے علیہ وسلم يقول : لا يحلُّ لامراة سنا ہے کہ کوئی عورت جو اللہ پر اور آخرت تؤمنُ بالله واليوم الآخر أن کے دن پر ایمان رکھتی ہو اس کے لیے جائز تحِدُّ على ميت فوق ثلاث إلا نہیں کہ وہ کسی مردہ شخص پر تین دن سے زیادہ على زوج ، فإنها تُحدُّ عليهِ سوگ منائے ، سوا اپنے شوہر کے ، کیوں کہ اربعةَ أشهرٍ وعشراً - اس پر وہ چار مہینہ اور دس دن تک سوگ منائے گی۔
اس حدیث میں بتایا گیا ہے کہ حضرت ابو سفیان بن حرب کا انتقال شام میں ہوا۔ مگر یہ بیان واقعہ کے مطابق نہیں۔ کیوں کہ متفقہ روایات کے مطابق ، حضرت ابو سفیان کا انتقال مدینہ میں ۲۱ھ میں ہوا۔ جو واقعہ مدینہ میں پیش آیا ، اس واقعہ کو اس روایت میں شام سے منسوب کیا گیا ہے (فتح الباری ۲/ ۴۷ ، ۱۷۵)
اس فروگزاشت پر رد عمل کا ایک غیر سنجیدہ طریقہ ہے ، اور دوسرا سنجیدہ طریقہ۔ غیر سنجیدہ طریقہ یہ ہے کہ اس کو شوشہ کے طور پر استعمال کیا جائے۔ اور سنجیدہ طریقہ یہ ہے کہ اس کو حقیقت پسندانہ نقطہ نظر سے دیکھا جائے۔
جو آدمی اس فروگزاشت کو شوشہ بنائے وہ اس کی بنیاد پر پوری صحیح بخاری کو مشتبہ قرار دے سکتا ہے۔ وہ امام بخاری کے علم کا مذاق اڑائے گا۔ وہ ان کے احتیاط کی روایتوں کو فرضی قصے قرار دے گا۔ وہ کہے گا کہ جب بخاری کو اتنا بھی نہیں معلوم تھا کہ ابو سفیان کا انتقال شام میں ہوا یا مدینہ میں تو ان کی مرتب کی ہوئی کتاب پر کیوں کر بھروسہ کیا جا سکتا ہے۔ اس کے برعکس سنجیدہ آدمی اس کو ایک انسانی سہو قرار دے کر کہے گا کہ اس سے اصل کتاب پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ امام بخاری اس حدیث کو جس ترجمۃ باب کے تحت لائے ہیں، اس کے الفاظ بتاتے ہیں کہ اس سے ان کی منشا یہ بتانا ہے کہ کسی عورت کے لیے درست نہیں کہ وہ اپنے شوہر کے سوا کسی اور شخص کی موت پر تین دن سے زیادہ سوگ منائے۔ اصل مدعا مذکورہ تشریح کے باوجود ثابت ہے۔ ابو سفیان کی وفات مدینہ میں ہو تب بھی اور شام میں ہو تب بھی۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1993 All issues