ناقص، جامع
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۳، صفحہ ۲۵
خالی ہوتا ہے مگر اوپری طور پر دکھاوے والے اعمال کرتا ہے۔ مگر دینی حقیقت کے بغیر دینی ظاہر داری کی کوئی قیمت نہیں۔
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ کسی پر ذمہ داری نہیں ڈالتا مگر اس کی طاقت کے مطابق ( لا يكلف الله نفسا الا وسعها ) اللہ کسی شخص پر صرف اتنا ہی بوجھ ڈالتا ہے جتنا اس کو دیا ہے ( لا يكلف الله نفسا الا ما آتاها) دوسری جگہ فرمایا کہ تم اللہ سے ڈرو جتنا تم سے ہو سکے ( فاتقوا الله ما استطعتم)
اس طرح کی ہدایات سے معلوم ہوتا ہے کہ دینی واجبات کا تعلق تمام تر حالات سے ہے۔ کسی مومن یا کسی مومن گروہ کی دینی ذمہ داری باعتبار استطاعت ہے نہ کہ باعتبار فہرست۔ اگر ایسا نہ ہو تو ہر شخص کا دین ناقص نظر آئے گا، حتیٰ کہ انبیاء کرام کا بھی۔ مثلاً حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اجتماعی احکام نافذ نہیں کیے۔ حضرت مسیح علیہ السلام نے نماز با جماعت قائم نہیں کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو والدین کے حقوق ادا کرنے کا موقع نہیں ملا۔ وغیرہ۔ اسی طرح ہر پیغمبر کا دین ناقص اور نا مکمل قرار پائے گا۔ کیوں کہ کسی بھی پیغمبر کے یہاں فہرست کے اعتبار سے واجبات دین کے کامل نفاذ کی مثال موجود نہیں۔ دین کی اصل حقیقت اخلاص ہے۔ جس آدمی کے اندر اخلاص ہو وہ کامل دین پر ہے اور جس آدمی کے اندر اخلاص نہ ہو وہ ناقص دین پر۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1993 All issues