نیا انقلاب
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۳، صفحہ ۲۶
نیا انقلاب
برٹرینڈ رسل نے لکھا ہے کہ قدیم زمانہ میں ہزاروں سال تک مذہب کا دور تھا۔ اس زمانہ میں انسان کوئی ترقی نہ کر سکا۔ انسان کی تمام ترقیاں حالیہ چند صدیوں میں ہوئی ہیں جب کہ مذہب کا غلبہ ختم ہو گیا اور سائنس کا دور دنیا میں شروع ہوا۔
برٹرینڈ رسل کی یہ بات ایک ترمیم کے ساتھ صحیح ہے۔ قدیم زمانہ میں جو غلبہ تھا وہ حقیقی مذہب کا غلبہ نہیں تھا۔ بلکہ مشرکانہ مذہب (بالفاظِ دیگر شرک) کا غلبہ تھا۔ یہی شرک ہے جو قدیم زمانہ میں تمدنی ترقیوں میں رکاوٹ بنا، نہ کہ حقیقی معنوں میں مذہب۔ حقیقی مذہب موحدانہ مذہب ہے، جب کہ قدیم تاریخ میں مشرکانہ مذہب ہمیشہ غالب رہا ہے۔
تمدنی ترقیاں فطرت کی تسخیر کا نتیجہ ہیں۔ قدیم زمانہ میں شرک فطرت کی چیزوں کو معبود کا مقام دیئے ہوئے تھا۔ ان چیزوں کو آدمی پرستش کی نگاہ سے دیکھ رہا تھا۔ وہ ان کو تحقیق اور تسخیر کی نظر سے کیوں کر دیکھتا۔ ساتویں صدی عیسوی میں پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ جو انقلاب آیا اس نے تاریخ میں پہلی بار سچے مذہب (توحید) کو غلبہ کا مقام عطا کیا۔
توحید کے غلبہ کے بعد یہ ہوا کہ فطرت کی چیزیں جو اس سے پہلے پوجنے کی چیز بنی ہوئی تھیں وہ اب تسخیر کی چیز بن گئیں۔ (و سخر لكم ما فی السموات والارض) پہلے اگر یہ نظریہ تھا کہ ہم چیزوں کے لیے ہیں تو اب یہ نظریہ ہو گیا کہ چیزیں ہمارے لیے ہیں نہ کہ ہم چیزوں کے لیے۔ برٹرینڈ رسل نے جس انقلاب کو سائنس کی طرف منسوب کیا ہے، وہ انقلاب حقیقت پتے مذہب کا لایا ہوا ہے۔ اس کا بیج ساتویں صدی عیسوی میں اسلام (دین توحید) کے ذریعہ رکھا گیا نہ کہ سولہویں صدی میں یورپ کے نشأۃ ثانیہ کی صورت میں۔ یورپ کی نشأۃ ثانیہ تو خود اسلامی انقلاب سے متاثر ہو کر ظہور میں آئی۔ برٹرینڈ رسل جیسے لوگوں کی غلطی یہ ہے کہ وہ اسلام اور دوسرے مذہب کا مطالعہ ایک ہی مشترک عنوان مذہب (ریلیجن) کے تحت کرتے ہیں۔ اگر وہ اس موضوع کا مطالعہ دو الگ الگ عنوانوں کے تحت کریں تو اس معاملہ کو سمجھنے میں انھیں دشواری پیش نہ آئے۔ محرف مذہب اور غیر محرف مذہب میں اتنا زیادہ فرق ہے کہ دونوں کا مطالعہ ایک عنوان کے تحت نہیں جا سکتا۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1993 All issues