علم کی کسوٹی پر
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۳، صفحہ ۲
علم کی کسوٹی پر
بائبل میں آدم کے بعد انسانی نسل کا پورا شجرہ نسب دیا گیا ہے۔ اس سے حساب لگا کر مسیحی علماء نے زمین پر آباد کاری کی مدت متعین کی ہے۔ یہ مدت ۱۹۶۵ میں ۴۱ھ۵ سال تھی۔ دوسری طرف جدید علمی طریقوں سے زمین کی عمر اور اس پر آباد کاری کی مدت کا جو اندازہ کیا گیا ہے ، اس کے مطابق یہ مدت مذکورہ اندازہ سے بہت زیادہ قرار پاتی ہے۔ اس اختلاف نے جدید علماء کی نظر میں بائبل کے بیان کو مضحکہ خیز بنا دیا۔ اسی طرح بائبل میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو چھ دنوں میں پیدا کیا۔ یعنی ۲۴ گھنٹہ والے چھ دنوں میں۔ یہاں بھی سائنس کی تحقیق بائبل کے بیان سے ٹکرا رہی تھی۔ کیوں کہ سائنسی مطالعہ کائنات کی تخلیق کو اربوں اور کھربوں سال کے درمیان پیش آنے والا ایک واقعہ بتا رہا تھا نہ کہ صرف ۲۴ گھنٹہ (چھ دن) کے اندر پیش آنے والا واقعہ۔ اس تضاد کی بنا پر جدید انسان کو بائبل علمی حیثیت سے ایک غیر معتبر کتاب نظر آنے لگی۔ علم اور مسیحیت کے درمیان اس طرح کے بہت سے ٹکراؤ پیش آئے۔ اس نے ابتدائی مسیحیت کو اور اس کے بعد تمام مذاہب کو جدید انسان کی نظر میں غیر حقیقی ثابت کر دیا۔ اس نے مذہب کو توہماتی قیاسات کا مجموعہ سمجھ کر اسے نظر انداز کر دیا۔
اس ٹکراؤ نے ابتداً تمام مذاہب کو جدید انسان کی نظر میں غیر معتبر بنا دیا۔ مگر موجودہ صدی کے نصف ثانی میں مزید تحقیق نے بتایا کہ یہ ٹکراؤ دراصل سائنس اور محرف مذہب کے درمیان تھا نہ کہ سائنس اور حقیقی مذہب کے درمیان۔
اس جدید تحقیق نے ساری دنیا میں اسلام کی اشاعت کے نئے مواقع کھول دیے ہیں۔ ایک طرف دوسرے مذاہب ہیں جن کے متعلق واضح طور پر یہ ثابت ہو گیا ہے کہ وہ علمی لحاظ سے قابلِ اعتبار نہیں ہیں۔ دوسری طرف اسلام کے بارہ میں یہ ثابت ہوا ہے کہ وہ استثنائی طور پر دوسرے مذاہب سے الگ ہے۔ اسلام کی تعلیمات میں کوئی بات بھی غیر علمی نہیں۔ وہ جس طرح سچا الہام ہے ، اسی طرح وہ خالص علم کی جانچ میں بھی پورا اترتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1993 All issues