فرد اور سماج
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۳، صفحہ ۲۹
ہے۔ اگر دونوں کی سرگرمیوں کے درمیان توازن موجود نہ رہے تو بالآخر دونوں ہی ہلاکت سے دوچار ہوں گے۔
ایک شخص کو حق ہے کہ وہ سڑک پر اپنی گاڑی چلائے۔ مگر اس کو یہ حق نہیں کہ وہ دائیں اور بائیں دونوں طرف اپنی گاڑی دوڑانے لگے۔ اس کو بہر حال ایسا کرنا ہوگا اپنی گاڑی چلانے کے ساتھ دوسروں کی گاڑیوں کی رعایت کرے ۔ ایک شخص کو بزنس کی اجازت ہے مگر سماج کے استحصال کی اجازت کسی کو نہیں دی جاسکتی۔ ایک شخص کو اپنی مطلوب چیز حاصل کرنے کا حق ہے۔ مگر جہاں دوسروں کا مطلوب متاثر ہونے لگے وہاں اس کو اپنی طلب کو حد میں رکھ کر دوسروں کو اپنی طلب پورا کرنے کا موقع دینا ہوگا۔
فرد پسندی ابتدائی طور پر ایک جائز چیز ہے۔ مگر اسی کے ساتھ ضروری ہے کہ فرد پسندی کو سماجی تقاضوں کے ماتحت رکھا جائے نہ کہ اس سے آزاد۔ ہر آدمی چاہتا ہے کہ اس کی کمائی پوری کی پوری اس کی ملکیت ہو۔ مگر سماجی ضرورتوں کی بنا پر اس کو مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ اپنی آمدنی کا ایک حصہ بطور ٹیکس ادا کرے۔
مذکورہ بنیادی قاعدہ کو سامنے رکھا جائے تو تعدد ازدواج کا اصول کوئی منفر د اصول نہیں، یہ عین وہی اصول ہے جو عملاً زندگی کے تمام دوسرے شعبوں میں ہمیشہ رائج رہا ہے۔ اس دنیا میں ہمیشہ یہ مانا گیا ہے کہ فرد پر لازم ہے کہ وہ سماج کے مسائل میں حصہ دار بنے۔ اس اصول کے مطابق کسی مرد کی زوجہ اول کو ایسا نہیں کرنا چاہیے کہ وہ سماج کے مسائل میں شرکت سے انکار کرے۔ اس قسم کے دوسرے کئی اشتراک کو وہ پہلے ہی سے قبول کیے ہوئے ہے۔ پھر ایک اور اشتراک سے انکار کرنے کا اسے کیا حق ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ سماج کا فرد ہونا ہی کسی مرد یا عورت پر یہ ذمہ داری ڈال دیتا ہے کہ وہ اپنی انفرادیت کو اس حد تک نہ لے جائیں کہ وہ اجتماعیت کے تقاضوں کو قبول کرنے سے انکار کر دیں۔ دوسری بیوی پر راضی ہونا، مخصوص حالات میں، پہلی بیوی کے لیے ایک سماجی مسئلے میں اشتراک کے ہم معنی ہے۔ اور پہلی بیوی کی انسانیت کا تقاضا ہے کہ وہ اس اشتراک کو دل کی آمادگی کے ساتھ قبول کرلے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1993 All issues